کم سن بچے کو بالغوں کی صف میں کھڑا کرنے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 2 #175Urdu
Vol. 2كتاب الصلاةباب (٦): امامت کا بیان

Question

ایک شخص اپنے نابالغ بچہ کو جماعت میں پہلی صف میں کھڑا کرتا ہے، کیا یہ درست ہے؟ نیز شریعت کی نگاہ میں نابالغ بچوں کی جگہ صف میں کون سی ہے؟ وضاحت کے ساتھ مع الدلیل جواب عنایت فرما دیں؟

Answer

اگر مسجد کی پہلی صف عام طور پر بالغین سے پُر ہوتی ہے تو پھر کمسن بچے کو پہلی صف میں کھڑا کرنا خلافِ سنت اور مکروہ ہے، ہاں عام طور پر پہلی صف بالغین سے پُر نہیں ہوتی تو تنہا کھڑا نہ رہے مردوں کے ساتھ شامل ہو جائے، لیکن زیادہ بچے ہیں تو کمسن بچوں کی صف مردوں کی صف کے پیچھے ہونا چاہیے شریعت میں یہی مقام ہے ۔ ملاحظہ ہو البحر الرائق میں ہے:

ويقتضي أيضاً أن الصبي الواحد لا يكون منفرداً عن صف الرجال بل يدخل في صفهم، وأن محل هذا الترتيب إنما عند حضور جمع من الرجال وجمع من الصبيان فحينئذ تؤخر الصبيان. (البحر الرائق: ۱/۳٥۳، باب الإمامة، كوئتة. وكذا في الشامي: ۱/٥۷۱باب الإمامة، سعيد. وبدائع الصنائع: ۱/۱٥۹، سعيد)

امداد الفتاح میں ہے:

وإذا اجتمع الرجال وغيرهم يصف الرجال خلف الإمام لقوله ﷺ "ليلني منكم أولوا الأحلام والنهي" (أخرجه مسلم، والترمذي، وأبو داود، وابن حبان، والبيهقي، وابن خزيمة، وعبد الرزاق) ثم بصف الصبيان لقول أبي مالك الأشعري رضي الله عنه أن النبي ﷺ "صلي وقام الرجال يلونه وأقام الصبيان خلف ذلك وأقام النساء خلف ذلك وإن لم يكن جمع من الصبيان يقوم الصبي بين الرجال. (ذكره الزيلعي في نصب الراية: ۲/۳
٦
. وأخرجه بنحوه الطبراني في معجمه الكبير: ۳٤۱
٦
. وذكره الهيثمي في مجمع الزوائد: ۱/۱۲۹). (إمداد الفتاح مع الحاشية: ۳٤۹، ترتيب صفوف الصلاة، بيروت)
وفي مسند الحارث: كان النبي "يصفهم في الصلاة فيجعل الرجال قدام الغلمان، والغلمان خلفهم

(ذكره الزيلعي في نصب الراية من حديث أبي مالك الأشعري رضي الله عنه وقال: رواه الحارث بن أبي أسامة في مسنده: (۲/۳۷). (إمداد الفتاح مع الحاشية: ۳٤۹، بيروت. وفتاوى حقانية: ۳/۱۲۱، باب تسوية الصفوف)

امداد المفتین میں ہے:
حدیث شریف اور عام کتبِ فقہ کی عباراتِ مشہورہ سے معلوم ہوا کہ نابالغ لڑکوں کا مردوں کی صف میں کھڑا کرنا خلافِ سنت ہے ۔ جس شخص کے پاس لڑ کے کھڑے ہوں اس کو چاہیے کہ ا نہیں پیچھے ہٹائے، ورنہ نماز مکروہ ہو گی ۔ (امداد المفتین:
۲/۳۳۷)

فتاویٰ محمودیہ میں ہے:
صفوں کی ترتیب یہ ہے کہ نابالغوں کی مستقل صف بالغین کی صف سے پیچھے ہو اگر نابالغ لڑکا صرف ایک ہو تو وہ مردوں کی صف میں کھڑا ہو جائے ۔ (فتاویٰ محمودیہ: ٦/
٤۸۹
باب تسویۃ الصفوف ۔ و فتاویٰ رحیمیہ:
۱/۱۹۰
) ۔
واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.