نابالغ بچے کو ایصالِ ثواب کرنے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 9 #218Urdu
Vol. 9باب… )۲( نماز سے متعلق متفرق مسائل

Question

کیا نابالغ بچوں کو ایصالِ ثواب کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟

Answer

نابالغ بچے معصوم ہوتے ہیں اس لیے ان کو ایصالِ ثواب کی ضرورت نہیں، تاہم اگر ان کو بھی ایصالِ ثواب کیا جائے تو صحیح قول کے مطابق ان کو ثواب پہنچ جائے گا، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ معصوم ہیں لیکن آپ کو ایصالِ ثواب ہو سکتا ہے اور کرنا چاہیے، لوگوں کا معمول چلا آ رہا ہے آپ ﷺ کے لیے قربانی، عمرہ، طواف اور کارِ خیر وغیرہ کر کے ایصالِ ثواب کرتے رہتے ہیں ۔ چند دلائل ملاحظہ کیجیے:

قال في الدر المختار: دعاء له أيضاً بتقدمه في الخير، لا سيما وقد قالوا: حسنات الصبي له لأبويه. (الدر المختار: ۲/۲۱۵، سعيد). (وكذا في البحر الرائق: ۲/۲۱۲، دار المعرفة، وحاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، ص ۳۸۸، ط: مصر).

احسن الفتاوی میں مذکور ہے:
نابالغ کو اپنی حسنات کا ثواب ملتا ہے، اس سے ثابت ہوا کہ اس کو غیر بھی اپنی حسنات کا ایصالِ ثواب کر سکتا ہے، نیز اس پر نمازِ جنازہ کی دعا بھی اس کے لیے مفید ہے اس سے بھی ایصالِ ثواب کا فائدہ ثابت ہوا ۔ (احسن الفتاوی: ٤/۲۰۵) ۔
فتاوی محمودیہ میں مرقوم ہے:
بچے معصوم ہیں، گناہوں سے بخشوانے کے لیے ان کے حق میں ایصالِ ثواب کی ضرورت نہیں، ہاں تحصیل انعامات کے لیے دعا کی جائے تو ٹھیک ہے جیسے صلاۃ جنازہ میں کی جاتی ہے ۔ (فتاوی محمودیہ: ۹/۲۳۹، جامعہ فاروقیہ) ۔
صحیح مسلم شریف میں ہے کہ قربانی میں رسول اللہ ﷺ نے یہ دعا فرمائی تھی:"
اللهم تقبل من محمد وآل محمد ومن أمة محمد ". (
صحیح مسلم: ۲/۵٦/۱۹٦۷) ۔
اور امت میں بچے یقیناً شامل ہیں، معلوم ہوا کہ بچوں کے لیے ایصالِ ثواب کیا جا سکتا ہے ۔
نبی کریم ﷺ معصوم ہیں لیکن حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے حضور ﷺ کی طرف سے قربانی فرمائی؛
عن حنش قال: رأيت علياً يضحي بكبشين فقلت ما هذا؟ فقال: إن رسول الله ﷺ أوصاني أن أضحي عنه فأنا أضحي عنه. (رواه أبو داود، رقم: ۲۷۹۲).

حضور ﷺ کے لیے ایصالِ ثواب کے مزید دلائل فتاوی دار العلوم زکریا (۲/۸٤۳) میں دیکھے جا سکتے ہیں ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.