ایصالِ ثواب کرنے والے کو ثواب ملنے کا حکم:

5 min readFatwa Vol 9 #203Urdu
Vol. 9باب… )۲( نماز سے متعلق متفرق مسائل

Question

ایک صاحب کہتے ہیں کہ جو ہم ایصالِ ثواب کرتے ہیں، تو مرحومین کو باذن اللہ ثواب پہنچ جاتا ہے، کیا اس میں ہمارے لیے کوئی فائدہ ہے یا نہیں؟ بینوا بالدلیل توجروا بالاجر الجزیل ۔

Answer

احادیث اور فقہی عبارات کی روشنی میں واضح ہوتا ہے کہ ایصالِ ثواب کرنے والے کو بھی پورا پورا ثواب ملتا ہے، جیسا کہ ایک حدیث میں ہے: جب آدمی کسی کے لیے غائبانہ دعا کرتا ہے تو فرشتے کہتے ہیں آپ کو بھی اللہ تعالی اپنی بخشش سے نوازے، نیز دوسری حدیث میں ہے: جو شخص اچھے عمل کی ترویج کرتا ہے تو اس کو اس کا پورا اجر ملتا ہے اور اس پر عمل کرنے والوں کا بھی اجر ملتا ہے اور عاملین کے اجر میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی، اسی طرح حضرت تھانوی رحمه الله نے لکھا کہ دنیوی اشیاء دوسری جگہ منتقل ہونے کے بعد پہلی جگہ نہیں رہتیں، لیکن ثواب کی چیزیں منتقل ہونے کے بعد بھی پہلی جگہ رہ جاتی ہیں، جیسے کمپیوٹر سے پروگرام منتقل کرنے کے بعد بھی کمپیوٹر میں پروگرام رہتا ہے ۔ دلائل اور شواہد ملاحظہ کیجیے:

عن المنذر بن جرير عن أبيه قال: كنا عند رسول الله ﷺ في صدر النهار قال: فجاء قوم حفاة وعراة مجتابي النمار أو العباء متقلدي السيوف

إلى قوله: حتى رأيت وجه رسول الله ﷺ يتهلل كأنه مذهبة، فقال رسول الله ﷺ: من سن في الإسلام سنة حسنة فله أجرها وأجر من عمل بها بعده من غير أن ينقص من أجورهم شيء

(رواه مسلم، رقم؛ ۱۰۱۷).
عن زيد بن خالد الجهني عن النبي ﷺ، قال: من جهز غازياً في سبيل الله أو خلفه في أهله كتب له مثل أجره غير أنه لا ينقص من أجره شيء ومن فطر صائماً كتب له مثل أجره لا ينقص من أجره شيء. (صحيح ابن حبان، رقم: ٤٦۳۳).
قال الشيخ شعيب: إسناده صحيح رجاله ثقات رجال الصحيح.
عن عائشة رضي الله تعالى عنها قالت: قال رسول الله ﷺ، إذا أنفقت وقال ابن نمير: إذا أطعمت المرأة من بيت زوجها وقال أبو معاوية: إذا أنفقت المرأة من بيت زوجها غير مفسدة كان لها أجرها وله مثل ذلك بما كسب ولها بما أنفقت وللخازن مثل ذلك قال أبو معاوية: من غير أن ينقص من أجورهم شيء. (مسند الإمام أحمد، رقم: ۲٤۱۷۱).
عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: من مر على المقابر وقرأ: قل هو الله أحد، إحدى عشرة مرة ثم وهب أجره للأموات أعطي من الأجر بعدد الأموات. (من فضائل سورة الإخلاص وما لقارئها، ص ۱۰۲، رقم: ۵٤).

اس روایت پر علماء نے بہت کلام فرمایا ہے، خلاصہ یہ ہے کہ ضعیف ہے موضوع نہیں ہے ۔
تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو : (فتاوی دار العلوم زکریا: ۱/۵۳۹ ۔ ۵٤۲، ط: بمبئی) ۔
فتاوی شامی میں ہے:

صرح علماؤنا في باب الحج عن الغير بأن للإنسان أن يجعل ثواب عمله لغيره صلاة أو صوماً أو صدقة أو غيرها كذا في الهداية بل في زكاة التاتارخانية عن المحيط: الأفضل لمن يتصدق نفلاً أن ينوي لجميع المؤمنين والمؤمنات لأنها تصل إليهم ولا ينقص من أجره شيء هو مذهب أهل السنة والجماعة. (فتاوى الشامي: ۲/۲٤۳، سعيد).

امداد الفتاوی میں حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمه الله رقم طراز ہیں:

في شرحِ الصدور بتخريج الطبراني عن أبي عمرو قال: قال رسول الله ﷺ: إذا تصدق أحدكم صدقة تطوعاً فليجعلها عن أبويه فيكون لهما أجرها ولا ينقص من أجره شيئاً،
یہ حدیث نص ہے اس میں کہ ثواب بخش دینے کے بعد بھی عامل کے پاس پورا ثواب رہتا ہے اور صحیح مسلم کی حدیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے،
من سن سنة حسنة فله أجرها وأجر من عمل بها من غير أن ينقص من أجره شيئاً أو كما قال،
وجہ تائید ظاہر ہے کہ دوسرے شخص کی طرف تعدیہ ثواب سے بھی عامل کا ثواب کم نہیں ہوتا اتنا فرق ہے کہ حدیث طبرانی میں تعدیہ بالقصد اور حدیث مسلم میں بلا قصد سویہ فرق حکم مقصود میں کچھ مؤثر نہیں اور فقہاء نے بھی ان روایات کے مدلول کو بلا تاویل متلقی بالقبول کیا ہے،
كما في رد المحتار عن زكاة التاتارخانية

اور راز اس میں احقر کے ذوق میں یہ ہے کہ معانی میں توسع اس قدر ہے کہ تعدیہ الی المحل الآخر سے بھی محل اول سے زوال نہیں ہوتا، چنانچہ تعدیہ علوم و فیوض میں مشاہد ہے بخلاف اعیان کے کہ وہاں ایسا نہیں بلکہ ہبہ کرنے کے بعد شئی موہوب واہب کے پاس نہیں رہتی ۔ (امداد الفتاوی: ۱/۵۹۳) ۔ مزید ملاحظہ ہو : (فتاوی رحیمیہ: ۳/۵۸۵، ط: دیوبند) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.