واٹساپ پر ایصالِ ثواب گروپ کا حکم:
Question
کچھ عرصہ پہلے ایک شخص کے والدین اور بھائی بہن ایکسیڈنٹ میں انتقال کر گئے، اس نے واٹساپ پر ایک گروپ بنایا جس میں خاندان اور قریبی رشتہ داروں نے اپنی خوشی سے شرکت کی، اس گروپ میں ماہانہ ایک ایک جزء ہر شریک کو تقسیم کیا جاتا ہے اس طرح ماہانہ دو قرآنِ کریم کا ختم اور رمضان میں تین کا ختم ہو جاتا ہے پھر ہم اپنے والدین اور تمام مرحومین کے لیے ایصالِ ثواب کی نیت کر لیتے ہیں، چند دن پہلے کسی نے بتایا کہ یہ کام بدعت ہے، ریاکاری ہے اور دین میں سے نہیں ہے، اب آپ سے درخواست ہے کہ حکمِ شرعی سے مطلع فرمائیں؟ بینوا بالبرہان توجروا عند الرحمن ۔
Answer
اہل سنت و الجماعت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ انسان اپنی عباداتِ بدنیہ، مالیہ اور تلاوتِ قرآن وغیرہ کا ثواب کسی مردہ کو یا زندہ کو دے سکتا ہے اور دیا ہوا ثواب اللہ تعالی پہنچا دیتے ہیں، پھر ایصالِ ثواب کے لیے افضل اور بہتر طریقہ یہ ہے کہ ہر انسان علیحدہ اپنے طور پر پڑھ کر یا صدقہ خیرات کر کے ایصالِ ثواب کر دیا کرے، ہاں گاہے گاہے اجتماعی قرآن خوانی کی بھی بہ چند شرائط علماء نے اجازت دی ہے:
۱ ۔ اس کو لازم اور ضروری نہ سمجھا جائے ۔
۲ ۔ قرآن خوانی کرنے والوں کو رقم وغیرہ نہ دی جائے ۔ نہ اس کے عوض کھانا کھلایا جائے ۔
۳ ۔ فخر، ریا اور شہرت مطلوب نہ ہو ۔
٤ ۔ سوئم، چہلم اور برسی وغیرہ کے اہتمام کے لیے نہ ہو ۔
۵ ۔ مردوں اور عورتوں کا خلط و اختلاط نہ ہو ۔
بنا بریں بہ شرائطِ مذکورہ واٹساپ گروپ پر پارہ کی تقسیم، ختمِ قرآنِ کریم اور اس کا ایصالِ ثواب جائز اور درست ہے نیز واٹساپ پر اجتماعی تلاوت نہیں ہوتی، ہر شخص اپنی سہولت سے پڑھ سکتا ہے، آسانی کے لیے پارہ کی تقسیم ہوتی ہے اس میں کسی پر جبر نہیں ہوتا، نیز یہ تقسیم اس وجہ سے بھی ہے کہ پارہ مکرر نہ ہو جائے اور ترتیب سے قرآن ختم ہو جائے ۔ بہرحال یہ تقسیم آسانی کے لیے ہے اس کو بدعت کہنا صحیح نہیں ۔ چند دلائل حسبِ ذیل ملاحظہ کیجیے:
حضرت عبداللہ بن مسعود
رضي الله عنه
ہر جمعرات کو وعظ فرماتے تھے تو یہ تعیین بدعت نہیں بلکہ آسانی کی وجہ سے تھی ۔
عن أبي وائل قال: كان عبد الله يذكر في كل خميس فقال له رجل: يا أبا عبد الرحمن لوددت أنك ذكرتنا كل يوم، قال: أما أنه يمنعني من أني أكره أن أملكم وأني أتخولكم بالموعظة كما كان النبي ﷺ يتخولنا بها مخافة السآمة علينا. (رواه البخاري، رقم: ۷۰، باب من جعل لا هل العلم أياما معلومة).
حضرت شیخ رحمه الله فرماتے ہیں کہ درس و تدریس میں اوقات، اسباق اور گھنٹوں کی تعیین بدعت نہیں ہے کیوں کہ یہ آسانی کے لیے ہے، ہاں اگر کوئی اس کی وجہ سے زیادہ اجر کی نیت کرے تو یہ بدعت ہوگا ۔
ملاحظہ ہو حاشیہ لامع میں ہے:
فإن البدعة هو التعيين الذي يعد فيه ثواب وأجر خاص بهذا المعين وأما التعيين لساعات الدروس مثلاً فلا يعده أحد أجراً وثواباً. (حاشية لامع الدراري: ۱/٤۷، ط: سعيد).
قطب الاقطاب حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمه الله فرماتے ہیں:
ایصالِ ثواب ہر روز درست اور موجبِ ثواب ہے کوئی تاریخ و وقت شرع سے مؤقت نہیں روزِ ولادت و روزِ وفات بھی درست ہے پس اگر کسی دن کو ضروری نہ جانے بلکہ مثل دیگر ایام کے جانے ایصالِ ثواب میں اور عوام کو بھی اس طرح کے ایصالِ ثواب میں ضرر نہ ہو تو کچھ حرج نہیں سب کے نزدیک درست ہے ۔ (فتاوی رشیدیہ، ص ۱۱۸، ط: اسلامی کتب، کراچی) ۔
نیز مذکور ہے: اگر بلا تعیین یوم کے جمع ہو کر ختمِ قرآن کریں یا کلمہ طیبہ اور ایصالِ ثواب اس کا کریں تو جائز ہے اکثر علماء کے نزدیک ۔ (فتاوی رشیدیہ، ص ۱۳۷) ۔
دوسری جگہ ختمِ بخاری شریف کے بارے میں رقم طراز ہیں:
سوال؛ کسی مصیبت کے وقت بخاری شریف کا ختم کرانا قرونِ ثلاثہ سے ثابت ہے یا نہیں اور بدعت ہے یا نہیں؟ جواب: قرونِ ثلاثہ میں بخاری شریف تالیف نہیں ہوئی تھی مگر اس کا ختم درست ہے کہ ذکر خیر کے بعد دعا قبول ہوتی ہے اس کا اصل شرع سے ثابت ہے بدعت نہیں، فقط رشید احمد عفی عنہ ۔ (فتاوی رشیدیہ، ص ۱٤۷) ۔
یاد رہے کہ جو تعیین یوم ممنوع ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ تعیین کو ثواب و سنت یا ضروری سمجھے ورنہ آسانی کے لیے تعیین یوم ممنوع نہیں ۔ ملاحظہ ہو حضرت فرماتے ہیں:
مجلس مولود و ایصالِ ثواب وغیرہ کے قیود دراصل مباح ہیں اگر ان کو سنت یا ضروری جانے تو بدعت و تعدی ہے اور اس کے بغیر اباحت کے درجے میں ہیں، ہاں ہم کو عوام کی عادت سے محقق ہو گیا ہے کہ وہ لوگ ضروری اور سنت جانتے ہیں اس لیے ہم منع کرتے ہیں ۔ (مستفاد از فتاوی رشیدیہ، ص ۱۳۱) ۔
(و كذا فی کفایت المفتی: ٤/۱۲۷، ط: دار الاشاعت، و فتاوی محمودیہ: ۳/۸٦، جامعہ فاروقیہ) ۔
اس مسئلہ کی مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو : (ذکر اجتماعی و جہری شریعت کے آئینہ میں، ص ۲٤۹ ۔ ۲۹۱) ۔
سیر اعلام النبلاء میں امام ذہبی رحمه الله نے سلفِ صالحین سے بہت سارے ایسے اعمال نقل کیے ہیں جو متروکات میں آتے ہیں، لیکن ممنوعات نہیں ہیں:
(۱) حضرت ابو الدرداء رضی اللہ تعالی عنہ روزانہ ایک لاکھ تسبیح پڑھتے تھے ۔ (۲/۳٤۸) ۔
(۲) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ مہینے کے پہلے تین دن کے روزے رکھتے تھے ۔ (۲/٦۰۹) ۔
(۳) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ روزانہ بارہ ہزار تسبیحات پڑھتے تھے ۔ (۲/٦۱۰) ۔
(٤) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس ایک دھاگا تھا جس میں ۱۲ ہزار گرہیں تھیں، سونے سے پہلے ان پر تسبیحات پڑھتے تھے ۔ (۲/٦۲۳) ۔
(۵) عبدالرحمن بن ابی لیلی صبح کے بعد سورج نکلنے تک قرآنِ کریم کی تلاوت کرتے تھے ۔ (٤/۲٦۵) ۔
(٦) علی بن حسین زین العابدین رحمه الله ۲٤ گھنٹے میں ایک ہزار رکعتیں پڑھتے تھے ۔ (٤/۳۹۲) ۔
(۷) طاؤوس بن کیسان رحمه الله اور ان کے تلامذہ اور متعلقین عصر کے بعد کا وقت تا مغرب دعا کے لیے مخصوص کرتے تھے ۔ (۵/٤۸) ۔
(۸) علی بن عبداللہ بن عباس رضی الله عنه روزانہ ایک ہزار رکعتیں پڑھتے تھے ۔ (۵/۲۵۳) ۔
(۹) امام احمد بن حنبل رحمه الله روزانہ دن رات میں تین سو رکعتیں پڑھتے تھے جب آزمائشوں نے ان کو کمزور کر دیا تو پھر ڈیڑھ سو رکعتیں پڑھتے تھے ۔ (۵/۲۱۲) ۔
(۱۰) بقی بن مخلد رحمه الله ۱۳ رکعتوں میں قرآنِ کریم ختم کرتے تھے اور دن کے وقت سو رکعتیں پڑھتے تھے اور ہمیشہ روزے رکھتے تھے ۔ (۱۳/۲۹۲) ۔
(۱۱) جنید بن محمد رحمه الله روزانہ تین سو رکعتیں پڑھتے تھے اور کئی ہزار تسبیحات پڑھتے تھے ۔ (۱٤/٦۷) ۔
(۱۲) علامہ ابن قیم رحمه الله نے علامہ ابن تیمیہ رحمه الله کے بارے میں لکھا ہے کہ علامہ ابن تیمیہ رحمه الله فرماتے تھے کہ جو شخص فجر کی سنت اور فرض کے درمیان یا حی یا قیوم، لا الہ الا انت، روزانہ پابندی سے ٤۰ مرتبہ پڑھے گا، تو ان کلمات کی وجہ سے اللہ تعالی اس کے دل کو شاداب اور تروتازہ رکھے گا ۔ (مدارج السالکین: ۳/۲٦٤) ۔
یہ سب متروکات ہیں جن حضرات نے ان کو معمول بنایا وہ خود پابندی کرتے تھے لیکن نہ کرنے والے پر انکار نہیں کرتے تھے، لہٰذا کسی نے بدعت نہیں کہا ۔
حضرت سہارنپوری رحمه الله نے فرمایا: التزام بمعنی اصرار بدعت ہے اور دوام بلا التزام مستحب ہے ۔ (براہین قاطعہ، ص ٦۷) ۔ اس مسئلہ کی مزید تفصیل مولانا عبد الحی لکھنوی رحمه الله کے رسالہ
"إقامة الحجة على أن الإكثار في التعبد ليس ببدعة"
میں مذکور ہے وہاں دیکھی جا سکتی ہے ۔ (ماخوذ از فتاوی دار العلوم زکریا: ۷/۸۰۷) ۔
پوری بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ واٹساپ پر پاروں کی تقسیم و تعیین آسانی کے لیے ہو تو اس کو بدعت نہیں کہیں گے، ہاں لازم اور ضروری سمجھیں یا اس میں اجر و ثواب کو زیادہ تسلیم کر لیں تو بدعت ہو گا حالانکہ ایسی بات نہیں ہے ۔ اجتماعی قرآن خوانی اور ایصالِ ثواب سے متعلق دلائل کے لیے ملاحظہ فرمائیں: (فتاوی دار العلوم زکریا: ۸/٦۸۰، ط: زمزم) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.