عورتوں کے سجدہ کی کیفیت:

2 min readFatwa Vol 2 #74Urdu
Vol. 2كتاب الصلاةباب (۳): صفۃ الصلاۃ کا بیان

Question

عورتوں کو حالتِ سجدہ میں پاؤں ملانا چاہیے یا کھولنا چاہیے اور کتنا کھولے؟

Answer

فقہاء نے عورتوں کے سجدہ کی جو کیفیت بیان فرمائی ہے اس کا تقاضہ یہ ہے کہ کہنیاں زمین پر بچھی ہوئی رکھنی چاہئیں، دونوں پیر انگلیوں کے بل کھڑے نہیں رکھنے چاہئیں بلکہ دونوں پیر داہنی طرف نکال لے اور خوب سمٹ کر اور دب کر سجدہ کرے ۔ ملاحظہ ہو در مختار میں ہے:

والمرأة تنخفض فلا تبدي عضديها وتلصق بطنها بفخذيها لأنه أستر. وفي الشامي: وذكر في البحر أنها لا تنصب أصابع القدمين كما ذكره في المجتبى. (الدر المختار مع الشامي: ۱/٥۰٤، سعيد)

امداد الفتاح میں ہے:

ويسن انخفاض المرأة ولزقها بطنها بفخذيها، لا نها عورة مستورة كما قدمناه وهذا أستر لها، وفي مراسيل أبي داود: أنه ﷺ مر على امرأتين تصليان فقال: إذا سجدتما فضما بعض اللحم إلى بعض فإن المرأة ليست في ذلك كالرجل

ولا تفتح إبطيها في السجود

ولا تنصب أصابع القدمين. (إمداد الفتاح: ص ۲۹۷. وكذا في تبيين الحقائق: ۱/۱۱۸)

فتاوی محمودیہ میں ہے:
الصاق بطن کا مسئلہ جلسہ کے متعلق نہیں بلکہ سجدہ کے متعلق ہے یعنی سجدہ میں پیر کھڑے کرنے سے الصاقِ بطن نہیں ہوتا، بلکہ داہنی طرف نکالنے سے ہوتا ہے، پس سجدہ میں عورت کو چاہیے کہ پیر کھڑے نہ کرے بلکہ داہنی طرف نکال لے تاکہ الصاق بطن ہو جائے ۔ (فتاوی محمودیہ: ۵/٦۲٤، باب صفۃ الصلاۃ ۔ و فتاوی حقانیہ: ۳/۹۲) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.