ساڑھی پہننے کا حکم:
Question
کیا ساؤتھ افریقہ میں مسلم خواتین کے لیے ساڑھی پہننا جائز ہے یا نہیں؟ جو کہ ہندو قوم کا لباس ہے؟ بینوا توجروا۔
Answer
ساڑھی کے بارے میں علمائے کرام اور اکابر رحمه الله کی آراء مختلف ہیں، ماحصل یہ ہے کہ جس معاشرے میں یہ لباس عام ہو وہاں اس کی گنجائش ہے جب کہ پورے جسم کو اچھی طرح چھپائے، اور جس معاشرے میں عام نہ ہو فقط ہندوؤں کا لباس سمجھا جا تا ہو وہاں نہیں پہننا چاہیے، اور ساؤتھ افریقہ میں یہ لباس عام نہیں بلکہ ہندوؤں کے ساتھ خاص ہے اس وجہ سے ایسے لباس سے بچنا چاہیے جب کہ اس میں اچھی طرح تستر بھی نہیں ہوتا۔ ملاحظہ ہو مسلم شریف کی روایت میں ہے:
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ صنفان من أهل النار لم أرهما قوم معهم سياط كأذناب البقر يضربون بها الناس ونساء كاسيات عاريات مميلات مائلات رؤوسهن كأسنمة البخت المائلة لا يدخلن الجنة ولا يجدن ريحها وإن ريحها ليوجد من مسيرة كذا وكذا. (رواه مسلم، رقم: ۲۱۲۸، باب النساء الكاسيات عاريات).
ابن عبد البر التمہید میں فرماتے ہیں:
وأما معني قوله "كاسيات عاريات" فإنه أراد اللواتي يلبسن من الثياب الشيء الخفيف الذي يصف ولا يستر فهن كاسيات بالاسم عاريات في الحقيقة. (التمهيد: ۱۳/۲۰٤).
قال الإمام النووي رحمه الله: وقيل معناه: تستر بعض بدنها وتكشف بعضه إظهاراً للزينة لجمالها ونحوه. (شرح صحيح مسلم:).
قال الإمام البغوي رحمه الله في شرح السنة: وقيل: هن اللائي يسدلن الخمر من ورائهن، فتنكشف صدورهن، فهن كاسيات بمنزلة العاريات إذا كان لا يستر لباسهن جميع أجسامهن. (شرح السنة: ۱۰/۲۷۲).
ملا علی قاری رحمه الله مرقات میں فرماتے ہیں:
وقيل: يسترن بعض بدنهن ويكشفن بعضه إظهاراً لجمالهن وإبرازاً لكمالهن وقيل: يلبسن ثوباً رقيقاً يصف بدنهن وإن كن كاسيات للثياب عاريات في الحقيقة
قال الطيبي رحمه الله: أثبت لهن الكسوة ثم نفاها لان الحقيقة الاكتساء ستر العورة فإذا لم يتحقق الستر فكأنه لا اكتساء. (مرقاة المفاتيح: ۱۱/۹۵).
ابن الجوزی رحمه الله کشف المشکل میں فرماتے ہیں:
والثاني: أنهن يكشفن بعض أجسامهن فهن عاريات أي بعضهن منكشف. (كشف المشكل من حديث الصحيحين: ۱/۱۰۳۱، ط: الرياض).
مولانا عاشق الہی صاحب رحمه الله حدیثِ مذکور کے تحت فرماتے ہیں:
بدن پر کپڑا ہونے اور اس کے باوجود ننگا ہونے کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ بدن پر صرف تھوڑا سا کپڑا ہو اور بدن کا بیشتر حصہ اور خصوصاً وہ اعضاء کھلے رہیں جن کو با حیا عورتیں غیر مردوں سے چھپاتی ہیں، جیسا کہ یورپ (اور ایشیا کے بعض شہروں مثلاً بمبئی، کلکتہ، رنگون، سنگاپور وغیرہ) میں ایسا لباس پہننے کا رواج ہے کہ گھٹنوں تک قمیص یا فراک ہوتا ہے آستین یا تو ہوتی نہیں یا اس قدر کوتاہ ہوتی ہے کہ مونڈھے سے صرف دو چار اینچ ہی بڑھی ہوئی ہوتی ہے، اور گلا آگے اور پیچھے سے اس قدر فراخ اور چوڑا ہوتا ہے کہ نصف کمر اور نصف سینہ نظر آتا ہے۔ (فصل الخطاب فی مسئلۃ الحجاب، ص
۱۰۷
، ط: ادارۃ المعارف) ۔
شراحِ حدیث کی عبارات کا خلاصہ یہ ہے کاسیات اور عاریات کا ایک معنی یہ بھی ہے کہ بعض جسم کھلا ہوگا اور جسم کا بعض حصہ مستور ہوگا جس کی وجہ سے ستر عورت مکمل حاصل نہیں ہوگا۔ اور یہ معنی ساڑھی میں موجود ہے کہ جسم کا اکثر حصہ مستور ہوتا ہے اور بعض حصہ (مثلاً سینہ، پیٹ، پیٹھ اور کلائیاں) کھلا ہوا ہوتا ہے۔
حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی رحمه الله فرماتے ہیں:
اگر ساڑھی اس طرح سے پہنی جائے کہ اس سے پورا جسم چھپ جائے تو کوئی حرج نہیں، لیکن آج کل ہزار میں سے بمشکل ایک عورت ہی اس طرح پورا جسم ڈھانپ کر ساڑھی پہنتی ہے، چونکہ ساڑھی پہن کر شرعی پردہ نہیں ہو سکتا، اس لیے صرف ساڑھی پہن کر عورت ۴ کے لیے باہر نکلنا جائز نہیں ہے۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل:
۸
/
۳٦٦
طبع جدید۔ و کفایت المفتی:
۹
/
۱٦۰
، دار الاشاعت)۔
مولانا خالد سیف اللہ فرماتے ہیں:
ساڑھی چونکہ اب غیر مسلموں کا مخصوص لباس باقی نہ رہا، بلکہ ہندوستان کے مشرقی اور جنوبی علاقوں میں عام طور پر مسلم خواتین بھی ساڑھی پہنتی ہیں، لہذا مسلم خواتین ساڑھی پہن سکتی ہیں، لیکن ایسا بلاؤز استعمال کرنا کہ پیٹھ اور پیٹ کا حصہ کھلا رہے، بہت ہی گناہ کی بات ہے غیرت و حیاء کے بھی خلاف ہے۔ (کتاب الفتاوی:
٦
/
۹۱
)۔
مولانا خالد سیف اللہ صاحب کی عبارت کا خلاصہ یہ ہے کہ جس جگہ تشبہ نہ ہو اور جسم بھی مکمل مستور رہے تو گنجائش ہو گی ورنہ نہیں۔ لیکن حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی صاحب رحمه الله نے فرمایا کہ ایسی عورت ہزار میں بمشکل ایک ہو گی۔ پھر عام طور پر ہمارے عرف میں یہ ہندوؤں کا لباس سمجھا جاتا ہے۔ لہذا مسلمان خواتین کو ایسے لباس سے بچنا چاہیے۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.