سیاہ رنگ کے کپڑے پہننے کا حکم:

5 min readFatwa Vol 7 #5Urdu
Vol. 7باب (٤): احکام اللباس

Question

کیا کالے رنگ کے کپڑے پہننا جائز اور درست ہے؟ نیز نبی پاک ﷺ سے سیاہ کپڑے پہننا ثابت ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔

Answer

نبی کریم ﷺ کو سفید رنگ کے کپڑے سب سے زیادہ پسند تھے تاہم آنحضرت ﷺ سے سیاہ رنگ کی چادر استعمال کرنا بھی ثابت ہے، لہذا سیاہ رنگ کا کپڑا پہننا جائز اور درست ہے، البتہ اگر کسی علاقہ یا کسی مخصوص وقت میں فساق و فجار کا شعار ہو تو اس وقت اس سے بچنا چاہیے، جیسے محرم میں روافض کا شعار ہے ۔
ملاحظہ ہو حدیث شریف میں ہے:

عن أنس رضي الله عنه قال: لما ولدت أم سليم رضي الله عنه قالت لي: يا أنس انظر هذا الغلام فلا يصيبن شيئاً حتى تغدوا به إلى النبي ﷺ يحنكه فغدوت به فإذا هو في حائط وعليه خميصة حريثيه وهو يسم الظهر الذي قدم عليه في الفتح. (رواه البخاري، باب الخميصة السوداء، رقم: ۵۸۲٤).
قال في الفتح بعد ذكر الاختلاف في ضبط لفظ حريثيه: قلت: والذي يطابق من جميع هذه الروايات الجونية فإن الأشهر فيه أنه الأسود. (فتح الباري: ۱۰/۲۸۱، بيروت).
عن عائشة رضي الله عنه قالت: صنعت لرسول الله ﷺ بردة سوداء فلبسها. (رواه أبو داود، رقم: ٤۰۷٦).
وفي لفظ الحاكم: جبة من صوف سوداء فلبسها. (رقم: ۷۳۹۳).
روي مسلم والترمذي عن عائشة رضي الله عنه قالت: خرج رسول الله ﷺ ذات غداة، وعليه مرط من شعر أسود.
وروي الإمام أحمد (۱٦٤۷۳) وأبو دواد (۱۱٦٤) والنسائي (۱۵۰۷) عن عبد الله بن زيد المازني أن رسول الله ﷺ استسقي وعليه خميصة له سوداء، فأراد أن يأخذ بأسفلها فيجعله أعلاها فقلبها عليه، الأيمن على الأيسر، والأيسر على الأيمن.
زاد المعاد
میں ہے:

ولبس الخميصة المعلمة والساذجة ولبس ثوباً أسود. (زاد المعاد: ۱/۱۳۹، مؤسسة الرسالة).

طحطاوی علی الدر میں ہے:
ولا بأس بسائر الألوان من الأبيض والأزرق والأشقر. (حاشية الطحطاوي على الدر المختار: ٤/۱۸۰). (وكذا في الدر المختار مع رد المحتار: ٦/۳۵۸، سعيد).
وقال في المحيط البرهاني: ذكر محمد رحمه الله في السير في باب العمائم حديثاً يدل على أن لبس السواد مستحب. (المحيط البرهاني: ٦/۷٤، فصل في اللبس، ما يكره من ذلك، ومالا يكره).
وفي الفتاوى البزازية: وقص الشارب إمارة أهل السنة والجماعة وتركه إمارة الرفض وكذا لبس السواد. (الفتاوى البزازية على هامش الفتاوى الهندية: ٦/ ۳۱۱).

کفایت المفتی میں ہے:
اور ماتمی علامت اور نشان مقصود نہ ہو تو سیاہ رنگ مثل دوسرے کے استعمال کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ۔ (کفایت المفتی:
۹
/
۱۵۹
، دار الاشاعت) ۔
فتاوی محمودیہ میں ہے:
کالا کپڑا پہننا درست ہے مگر جب کسی جماعت فساق یا کفار کا شعار ہو جیسا کہ محرم میں روافض کا شعار ہے تو اس سے بچنا چاہیے ۔ (فتاوی محمودیہ:
۱۹
/
۲٦٦
، جامعہ فاروقیہ) ۔
احسن الفتاوی میں ہے:
سوال: سنا ہے مردوں اور عورتوں کو کالے کپڑے نہیں پہننے چاہئیں، کیوں کہ پیغمبر ﷺ کی کملی کالی تھی، اس لیے سیاہ لباس پہننا حضور ﷺ کی بے ادبی ہے؟
الجواب: یہ خیال صحیح نہیں، حضور آ کرم ﷺ نے مختلف رنگوں کا لباس استعمال فرمایا ہے، سفید رنگ سب سے زیادہ پسند تھا، خیالِ مذکور کی بنا پر تو ہر رنگ کا لباس ممنوع اور خلاف ادب ہو جائے گا، لہذا ممنوع رنگوں کے سوا ہر رنگ کا لباس جائز ہے، بلکہ حضور آ کرم ﷺ سے محبت اور جذبہ اتباع کا تقاضا تو یہ ہے کہ جو چیز آپ ﷺ کو پسند تھی اسے اختیار کیا جائے، اس زمانہ میں شعار شیعہ ہونے کی وجہ سے اس سے احتراز لازم ہے ۔ (احسن الفتاوی:
۸
/
٦٤
) ۔
مزید ملاحظہ ہو : (کتاب الفتاوی:
٦
/
۹۲
) ۔
خلاصہ یہ ہے کہ لباس سے متعلق آنحضرت ﷺ کی عادتِ شریفہ ترکِ تکلف کی تھی یعنی جو میسر ہوتا زیب تن فرماتے، کوئی خاص لباس مقرر نہیں ہوتا تھا، مختلف اوقات میں مختلف رنگوں کا لباس استعمال فرمایا ہے، لیکن سفید لباس زیادہ پسندیدہ تھا، تاہم کسی مخصوص لباس کی خواہش نہ فرماتے اور نہ بالکل ادنی اور حقیر کا تکلف فرماتے بلکہ جو میسر ہوتا استعمال فرماتے تھے ۔

والصواب أن أفضل الطرق طريق رسول الله ﷺ التي سنها وأمر بها ورغب فيها وداوم عليها وهي أن هديه في اللباس أن يلبس ما تيسر من اللباس. (زاد المعاد: ۱/۱٤۳). (
و کذا فی اسوۂ رسول آ کرم ﷺ، ص
۱۳٦
، ط: دار الاشاعت کراچی) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.