بطورِ فیشن سر کو اونچا کرنے کا حکم:
Question
آج کل ایک فیشن رائج ہے کہ عورتیں اپنے بالوں کے نیچے گلدستہ کی شکل کی ایک چیز رکھتی ہیں، جس سے سر بہت اونچا معلوم ہوتا ہے، فی زماننا یہ فیشن مسلمان عورتوں میں بکثرت رائج ہے، اس کے متعلق شریعت کا کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا۔
Answer
مسلمان خواتین کو اس قسم کے فیشن سے اجتناب کرنا چاہیے، ایک حدیث میں آتا ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
رؤوسهن كأسنمة البخت المائلة لا يدخلن الجنة ولا يجدن ريحها وإن ريحها ليوجد من مسيرة كذا وكذا. (رواه مسلم، رقم: ۲۱۲۸، باب النساء الكاسيات عاريات).
قال الإمام النووي رحمه الله: رؤوسهن كأسنمة البخت، فمعناه: يعظمن رؤوسهن بالخمر والعمائم وغيرها مما يلف على الرأس، حتى تشبه أسنمة الإبل البخت، هذا هو المشهور في تفسيره
واختار القاضي أن المائلات تمشطن المشطة الميلاء، قال: وهي ضفر الغدائر وشدها إلى فوق وجمعها في وسط الرأس فتصير كأسنمة البخت. (شرح النووي على صحيح مسلم: ۲/۳۸۳، باب جهنم أعاذنا الله منها، ط: قديمي).
حدیث شریف اور اس کی شرح کی روشنی میں یہ بات معلوم ہوئی کہ مسلمان خواتین کو ایسے فیشن سے بچنا چاہیے۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.