تسبیح میں ریشم کے دھاگے کا حکم:
Question
تسبیح میں ریشم کا دھاگا استعمال کر سکتے ہیں یا نہیں؟ جب کہ مرد کے لیے ریشم کے کپڑے ناجائز ہے؟
Answer
تسبیح میں ریشم کا دھاگا استعمال کرنا جائز اور درست ہے، کیوں کہ ریشمی لباس مردوں کے لیے ممنوع ہے اور یہ دھاگا لباس میں شامل نہیں ہے ۔
ملاحظہ ہو مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر میں ہے:
لو صلي على سجادة من الإبرسيم لم يكره فإن الحرام هو اللبس أما الانتفاع بسائر الوجوه فليس بحرام
۔
(مجمع الأنهر: ٤/۱۹٤، ط: دار الكتب العلمية)
۔
فتاوی الشامی میں ہے:
وفي الدر المنتقي: ولا تكره الصلاة على سجادة من الإبرسيم لان الحرام هو اللبس أما الانتفاع بسائر الوجوه فليس بحرام كما في صلاة الجواهر وأقره القهستاني وغيره. قلت: ومنه يعلم حكم ما كثر السؤال عنه من بند السبحة فليحفظ. (فتاوى الشامي: ٦/۳۵٤، سعيد).
قال الإمام الطحطاوي: وهذا ظاهر إذا كانت من حرير لأنه ليس من اللبس. (حاشية الطحطاوي على الدر المختار: ٤/۱۷۸).
امداد الاحکام میں ہے:
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ تسبیح کے ڈورے میں ریشم کا استعمال جائز ہے یا نہیں؟
الجواب: جائز ہے:
لأن الحرمة في لبس الحرير وهذا ليس من اللبس في شيء. (
امداد الاحکام:
٤
/
۳٤۰
) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.