حجاب کا حکم:
Question
حجاب کا حکم:
Answer
پورے جسم کو چھپائے بغیر عورت کا باہر نکلنا ناجائز ہے ۔ چہرہ مکمل مستور ہو راستہ دیکھنے کے لیے آنکھیں کھلی رکھنے کی اجازت ہے بہتر یہ ہے کہ اس پر بھی جالی لگا دی جائے ۔ حضرت مولانا محمد یوسف صاحب لدھیانوی رحمه الله فرماتے ہیں: احادیث میں آتا ہے کہ جب آیتِ حجاب نازل ہوئی تو مسلمان عورتیں اس طرح نکلتی تھیں کہ راستہ دیکھنے کے لیے صرف ایک آنکھ کھلی رہتی تھی ۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل:
۸
/
۴۶
، طبع جدید) ۔
روي الشيخان وغيرهما عن أم عطية رضي الله عنه قالت: أمرنا رسول الله ﷺ أن نخرجهن في الفطر والأضحى: العواتق، والحيض، وذوات الخدور، فأما الحيض فيعتزلن الصلاة، ويشهدن الخير ودعوة المسلمين، قلت: يا رسول الله! إحدانا لا يكون لها جلباب؟ قال: لتلبسها أختها من جلبابها. واللفظ لمسلم. (رقم: ۸۹۰).
قال الحافظ ابن حجر: وفيه امتناع خروج المرأة بغير جلباب. (فتح الباري: ۱/ ۴۲۴).
وقال بدرالدين العيني: ومنها أي من فوائد الحديث امتناع خروج النساء بدون الجلابيب. (عمدة القاري: ۳/ ۱۶۶، دار الحديث، ملتان).
قال في روح المعاني: في تفسير قوله تعالى: ﴿وليضربن بخمرهن على جيوبهن﴾ والخمر جمع خمار
وهو المقنعة التي تلقيها المرأة على رأسها من الخمر وهو الستر، والجيوب جمع جيب وهو فتح في أعلي القميص يبدو منه بعض الجسد
والمراد من الآية كما روي ابن أبي حاتم عن ابن جبير أمرهن بستر نحورهن وصدورهن بخمرهن لئلا يري منها شيء وكان النساء يغطين رؤوسهن بالخمر ويسدلنها كعادة الجاهلية من وراء الظهر فيبدو نحورهن وبعض صدورهن، وصح أنه لما نزلت هذه الآية سارع نساء المهاجرين إلى امتثال ما فيها فشققن مروطهن فاختمرن بها تصديقاً وإيماناً بما أنزل الله تعالى من كتابه. (روح المعاني: ۱۸/ ۱۴۲).
معارف القرآن میں ہے:
وليضربن بخمرهن على جيوبهن،
یعنی آنچل مار لیا کریں اپنے دوپٹوں کا اپنے سینوں پر، خمر: خمار کی جمع اس کپڑے کو کہتے ہیں جو عورت سر پر استعمال کرے اور اس سے گلا اور سینہ بھی چھپ جائے، جیوب جیب کی جمع جس کے معنی ہیں گریبان، چونکہ زمانہ قدیم سے گریبان سینہ ہی پر ہونے کا معمول ہے اس لیے جیوب کے چھپانے سے مراد سینہ کا چھپانا ہے شروع آیت میں اظہارِ زینت کی ممانعت تھی اس جملہ میں اخفاء زینت کی تاکید اور اس کی ایک صورت کا بیان ہے جس کی اصل وجہ ایک رسم جاہلیت کا مٹانا ہے، زمانہ جاہلیت میں عورتیں دوپٹہ سر پر ڈال کر اس کے دونوں کنارے پشت پر چھوڑ دیتی تھیں جس سے گریبان اور گلا اور سینہ اور کان کھلے رہتے تھے اس لیے مسلمان عورتوں کو حکم دیا گیا کہ وہ ایسا نہ کریں بلکہ دوپٹے کے دونوں پلے ایک دوسرے پر اُلٹ لیں تاکہ یہ سب اعضاء چھپ جائیں ۔ (معارف القرآن:
٦
/
۴۰۲
) ۔
حلال و حرام میں ہے:
عام فقہاء کے نزدیک اجنبی کے سامنے بلا ضرورت چہرہ اور ہاتھوں کا کھولنا بھی جائز نہیں، اگر شہوت اور فتنہ کا اندیشہ ہو جیسا کہ فی زمانہ اس کا مشاہدہ ہے تو پھر اجنبی سے مکمل پردہ ضروری ہے، خود قرآن مجید کی جب یہ آیت نازل ہوئی
﴿يدنين عليهن من جلابيبهن﴾
تو بقولِ حضرت ام سلمہ رضی الله عنہ انصاری خواتین نے ایسے سیاہ کپڑے پہن لیے کہ گویا ان کے سروں پر کوے ہوں اس لیے کہ جلباب ایسے کپڑے کو کہتے ہیں جو پورے جسم کو ڈھک دے ۔ (حلال و حرام، ص۱۸۷) ۔
کتاب الفتاوی میں ہے:
بہتر ہے کہ ایسا نقاب استعمال کیا جائے کہ آنکھ کے حصہ پر بھی جالی لگی ہو، تاہم فقہاء کی تصریحات کے مطابق آنکھیں کھلی رکھنے کی اجازت ہے تاکہ چلنے میں سہولت ہو، اصل مسئلہ خود نقاب کی ہیئت کا ہے، نقاب معمولی طور پر موٹے کپڑے کا ہونا چاہیے کا ہونا چاہیے جس میں جاذبیت نہ ہو، آج کل نئے نئے ڈیزائن کے جاذبِ نگاہ نقاب بنائے جاتے ہیں یہ نقاب کے مقصد و منشا کو مجروح کر دیتا ہے ۔ (کتاب الفتاوی: ٦/۸۳) ۔
قرآن و احادیث سے حجاب کے مزید دلائل ما قبل میں گزر چکے ہیں وہاں مراجعت کر لی جائے، تکرار موجبِ طوالت ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.