حجاب کا مطلب اور اس کا حکم:

2 min readFatwa Vol 7 #39Urdu
Vol. 7باب (٤): احکام اللباس

Question

میں ایک مسلمان لڑکی ہوں اور میرا تعلق مسلمان گھرانہ سے ہے، پہلے میں پردہ نہیں کرتی تھی تو میں ہر جگہ آزادی سے جاتی آتی تھی، اب جب سے میں پردہ کرنے لگی تو لوگ میری طرف اجنبیت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور ایئرپورٹ وغیرہ میں بھی میری تلاشی لیتے ہیں جب کہ پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا، تو اب سوال یہ ہے کہ پر دے میں کون سی چیزیں کھلی رکھ سکتی ہیں اور گریبان اور سینہ پر دے میں داخل ہے یا نہیں؟ اس لیے کہ بعض سہیلیوں سے سنا ہے کہ فقط چہرہ چھپانا ہے ۔ بینوا توجروا ۔

Answer

حجاب کا مطلب یہ ہے کہ ایسی چادر یا کپڑا جو سر تا پا عورت کے پورے جسم کو چھپائے بدن کی کوئی چیز نظر نہ آئے، لہذا سینہ اور گریبان بدرجہ اولی ستر میں داخل ہے اور ان کا چھپانا بھی لازم اور ضروری ہے ۔

قال الله تعالى: ﴿يدنين عليهن من جلابيبهن﴾ وذكر ابن حجر في تحديد المقصود من الجلباب سبعة أقوال: المقنعة، والخمار، أو أعرض منه، والثوب الواسع يكون دون الرداء، والإزار، والملحفة، والملاء ة، والقميص. وكذا في لسان العرب لابن منظور: (فتح الباري: ۱/ ۵۰۵).
وأرجحها ما ذهب إليه كثير من المحققين، وهو أن الجلباب في لغة العرب التي خاطبنا بها رسول الله ﷺ هو ما غطي جميع الجسم لا بعضه، ذكره ابن حزم في المحلي (۳/ ۲۱۷) وصححه القرطبي في تفسيره. (۱۴/ ۲۴۳).
وقال الشيخ أنور الكشميري: والجلباب رداء ساتر من القرن إلى القدم. (فيض الباري: ۱/ ۳۸۸).
والجلابيب: جمع جلباب وهو ما روي عن ابن عباس رضي الله عنه الذي يستر من فوق إلى أسفل. (روح المعاني: ۲۲/ ۸۸).
وقال الشيخ إبراهيم الشوري، والشيخ محمد الشيباوي: والصحيح أنه الثوب الذي يستر جميع البدن، وكل امرأة أعرف بما يستر جسمها، ولا يحتاج إلى تعليم في ذلك. (تيسير التفسير، ص: ٤٦،من أدلة الحجاب، ص: ۹. ۲۳۸).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.