حجاب کے حکم میں عمر کی تعیین کا حکم:
Question
لڑکی کو کس عمر سے حجاب پہننا چاہیے؟
Answer
لڑکی جب قریب البلوغ ہو جائے اور اس عمر میں اس کی طرف مرد کی خواہش ہونے لگے اور مشتہاۃ ہو جائے ایسی عمر میں حجاب کا حکم دیا جائے گا، عام طور پر فقہاء ۹ سال کی عمر لکھتے ہیں ۔
البحر الرائق میں ہے:
وقال الفقيه أبو الليث رحمه الله: ما دون تسع سنين لا تكون مشتهاة وعليه الفتوى. فأفاد أنه لا فرق بين أن تكون سمينة أو لا ولذا قال في المعراج: بنت خمس لا تكون مشتهاة اتفاقاً وبنت تسع فصاعداً مشتهاة اتفاقاً وفيما بين الخمس والتسع اختلاف الرواية والمشايخ والأصح أنها لا تثبت الحرمة. (البحر الرائق: ۳/ ۱۰٦، دار المعرفة، بيروت).
(وكذا في الجوهرة النيرة: ۳/ ۴۸۹، كتاب النكاح، والفتاوى الهندية: ۱/ ۲۷۵، والمحيط البرهاني: ۳/ ۱٦۸، دار إحياء التراث العربي، وفتاوى الشامي: ۳/ ۳۷، ط: سعيد).
فتاوی محمودیہ میں ہے:
جب لڑکی سیانی ہو جائے کہ اس کے اندر ایسا مادہ پیدا ہو جائے کہ خود اس کو مرد کی خواہش ہونے لگے یا مرد کو اس کی خواہش ہونے لگے تو وہ پردہ کے قابل ہو گی پھر ساری عمر پردہ کرے گی، کسی وقت بھی اس کو آزادی نہیں کہ بے پردہ ہو کر مردوں میں گھومتی پھرے ۔ (فتاوی محمودیہ ۱۹/ ۱٦۹، جامعہ فاروقیہ) ۔
احسن الفتاوی میں ہے:
احکامِ حجاب سے مقصود مردوں اور عورتوں کو بد نظری اور برے خیالات کے گناہ سے محفوظ رکھنا ہے، سو جس عمر سے بچوں میں اس گناہ میں مبتلا ہونے کا احتمال ہو گا وہ اس عمر سے احکامِ حجاب کے مکلف ہوں گے اور پردہ کے سلسلہ میں ایسے بچوں کا وہی حکم ہو گا جو بالغ مردوں عورتوں کا ہے ۔ (احسن الفتاوی: ۸/۳۷) ۔
حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی رحمه الله فرماتے ہیں:
جو لڑکے عورتوں کے پر دے سے واقف ہوں، ان سے پردہ کرنا چاہیے ۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل: ۸/۱۱۴، طبع جدید) ۔
قال الله تعالى: ﴿أو الطفل الذي لم يظهروا على عورات النساء﴾.
روح المعانی میں ہے:
أي الأطفال الذين لم يعرفوا ما العورة ولم يميزوا بينها وبين غيرها على أن (لم يظهروا) من قولهم ظهر على الشيء إذا اطلع عليه فجعل كناية عن ذلك أو الذين لم يبلغوا حد الشهوة والقدرة على الجماع على أنه من ظهر على فلان إذا قوي عليه ومنه قوله تعالى: ﴿فأصبحوا ظاهرين﴾ [الصف: ۱٤] ويشمل الطفل الموصوف بالصفة المذكورة بهذا المعني المراهق الذي لم يظهر منه تشوق للنساء
ويشمل أيضاً من دون المراهق لكنه بحيث يحكي ما يراه على وجهه، وذكروا في غير المراهق أنه إن كان بهذه الحيثية فكالمحرم وإلا فكالعدم فيباح بحضوره ما يباح في الخلوة فلا تغفل. (روح المعاني: ۱۸/ ۱۴۵).
معارف القرآن میں ہے:
أو الطفل الذين
، اس سے مراد وہ نابالغ بچے ہیں جو ابھی بلوغ کے قریب بھی نہیں پہنچے اور عورتوں کے مخصوص حالات و صفات اور حرکات و سکنات سے بالکل بے خبر ہوں، اور جو لڑکا ان امور سے دلچسپی لیتا ہو وہ مراہق یعنی قریب البلوغ ہے اس سے پردہ واجب ہے، (ابن کثیر) امام جصاص رحمه الله نے فرمایا یہاں طفل سے مراد وہ بچے ہیں جو مخصوص معاملات کے لحاظ سے عورتوں اور مردوں میں کوئی امتیاز نہ کرتے ہوں ۔ (معارف القرآن: ٦/۴۰۵) ۔
خلاصہ یہ ہے تقریباً نو سال کی لڑکی اور دس سال کا لڑکا حد شہوت تک پہنچ جاتے ہیں لہذا اس عمر میں پردہ کرنا ضروری ہو گا اور وہ خود اہتمام نہ کریں تو ان کے سرپرستوں کو چاہیے کہ ان سے اہتمام کروائیں ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.