محرم کے لیے عمر کی تعیین:

3 min readFatwa Vol 7 #56Urdu
Vol. 7باب (٤): احکام اللباس

Question

کس عمر سے بچہ ماں کے لیے محرم بننے کے قابل ہو جاتا ہے؟ سرکاری قانون کے اعتبار سے کوئی عمر متعین ہے عمرہ کی ویزا حاصل کرنے کے لیے؟ بینوا توجروا ۔

Answer

اس میں اختلاف ہے کہ سفر کے معاملہ میں قریب البلوغ بالغ کی طرح ہے یا نہیں، تاہم ایک قول یہ ہے کہ وہ بالغ کی طرح ہے، آج کل سفر کی کثرت اور ضرورت کی وجہ سے اس قول کو اختیار کیا جا سکتا ہے ۔ ملاحظہ ہو فقہاء فرماتے ہیں کہ مراہق بالغ کی طرح ہے ۔

قال في الدر المختار: ومع زوج أو محرم

بالغ قيد لهما كما في النهر بحثاً عاقل والمراهق كبالغ جوهرة. (الدر المختار: ۲/٤٦٤، كتاب الحج، سعيد). وكذا في الفتاوى الهندية: ۱/۲۱۹).
قال في تقريرات الرافعي: قول المصنف (والمراهق كبالغ) جعله الرحمتى كصبي لأنه محتاج إلى من يدفع عنه ولذا كان للأب منعه عن حجة الإسلام فكيف يصلح لحمايتها وفي المحيطين والبدائع الذي لم يحتلم لا عبرة له لكن ما في الجوهرة موافق لما في الخلاصة والبزازية، سندي. (التحرير المختار على الدر المختار: ۲/۱۵۷، سعيد).

علامہ سید احمد طحطاوی رحمه الله حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح میں فرماتے ہیں:

قوله بالغ، المراهق كالبالغ. (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، ص ۷۲۸، قديمي، وكذا في غمز عيون البصائر شرح الأشباه والنظائر: ۱/٤۷٦، ط: إدارة القرآن).

عمدۃ الفقہ میں حضرت مولانا سید زوار حسین صاحب فرماتے ہیں:
مراہق (قریب البلوغ) لڑکے کا حکم بالغ کی مانند ہے جیسا کہ جوہرہ میں ہے، (پس اس کے ساتھ سفر کرنا جائز ہے اور رحمتی رحمه الله نے اس کو نابالغ لڑکے کے حکم میں کہا ہے کیوں کہ وہ ایسے شخص کا محتاج ہے جواس کی طرف سے مدافعت کرے اور اسی لیے اس کے با پ کو حق حاصل ہے کہ اس کو فرض حج سے روک دے پس وہ عورت کی حفاظت کی صلاحیت کیسے رکھتا ہے اور دونوں محیطوں میں اور بدائع میں ہے کہ جس لڑکے کو ابھی احتلام نہیں ہوا یعنی بالغ نہیں ہوا اس کے ساتھ سفر کرنا معتبر نہیں ہے لیکن جو کچھ جوہرہ میں ہے وہ خلاصہ اور بزازیہ کے موافق ہے (پس فتوی کے لیے یہی مختار ہے کہ وہ بالغ کے حکم میں ہے اور اس کے ساتھ سفر جائز ہے، مؤلف) ۔ (عمدۃ الفقہ:
٤
/
۵۳
، کتاب الحج) ۔
(۲) مراہق لڑکا ہو تو وہ محرم بن سکتا ہے اور شریعت کی طرف سے اجازت ہے ہاں ویزا کے قانون کے خلاف نہ ہو تو حج، عمرہ کے لیے جا سکتے ہیں ۔ کیوں کہ قانون کی مخالفت حکومت کا جرم ہے جس کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور انسان کو اپنی عزت آبرو کی حفاظت کرنا انتہائی ضروری ہے ۔
بعض مفتی حضرات نے مراہق کے لیے عمر کی تعیین ۱۲ سال سے کی ہے ۔ ملاحظہ ہو : (احسن الفتاوی:
۸
/
۳۰
) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.