کافر محرم کے ساتھ سفر کا حکم:
Question
اگر کوئی عورت اپنے کافر محرم کے ساتھ سفر کرتی ہے تو یہ جائز ہے یا نہیں؟ یعنی محرم کے لیے مسلمان ہونا ضروری ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔
Answer
محرم کے لیے مسلمان ہونا ضروری نہیں کافر غیر مجوسی بھی مسلمان عورت کا محرم بن سکتا ہے، ہاں فاسق فاجر ہو نہ، ورنہ ایسے شخص کے ساتھ سفر کرنا جائز نہیں، اور علامہ حموی کی رائے یہ ہے کہ کتابی کے ساتھ سفر نہیں کرنا چاہیے کرنا چاہیے کرنا چاہیے، ورنہ وہ مسلمان عورت کو اسلام سے بر گشتہ کر دے گا، اور مجوسی محرم نہیں بن سکتا کیونکہ ان کے یہاں بیوی، بہن کی تفریق نہیں ۔
ملاحظہ ہو در مختار میں ہے:
قال في الدر: ومع زوج أو محرم ولو عبداً أو ذمياً أو برضاع
غير مجوسي ولا فاسق لعدم حفظهما. (الدر المختار: ۲/٤٦٤، سعيد).
وفي البدائع: وسواء كان المحرم حراً أو عبداً، لأن الرق لا ينافي المحرمية، وسواء كان مسلماً أو ذمياً أو مشركاً، لأن الذمي والمشرك يحفظان محارمهما، إلا أن يكون مجوسياً لأنه يعتقد إباحة نكاحها، فلا تسافر معه لأنه لا يؤمن عليها كالأجنبي. (بدائع الصنائع: ۲/۱۲٤، سعيد).
(وكذا في تبيين الحقائق: ۲/٦، إمداديه ملتان، وحاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، ص ۷۲۸).
علامہ حموی رحمه الله کی رائے ملاحظہ ہو :
أقول: إذا لم يكن الفاسق محرماً للخشية عليها من فسقه، فأحري أن لا يكون الكتابي محرماً لها خشية أن يفتنها عن دين الإسلام إذا خلا بها، فليتأمل. (غمز عيون البصائر على الأشباه والنظائر: ۱/٤۷٦).
وكذا نقل عنه العلامة الرافعي في التحرير المختار وزاد بقوله: وأقره هبة الله وأبو السعود. (التحرير المختار: ۲/۱۵۷، سعيد).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.