عورت کے لیے باریک دوپٹہ کا حکم:
Question
(۱) الف: کیا عورت کے لیے باریک دوپٹہ جس میں سے بال نظر آتے ہوں، پہننا جائز ہے یا نہیں؟ ب: اگر ایسے باریک دوپٹے کے ساتھ نماز پڑھی ہو تو اس کی نماز کا کیا حکم ہوگا؟ ج: دوپٹوں کے باریک ہونے کا حکم کیسے متعین کیا جائے گا؟ یعنی کتنے فاصلے سے نظر آنے سے حکم لگایا جائے گا؟ کیونکہ بعض باریک دوپٹے ایسے ہوتے ہیں کہ دور سے آر پار نظر نہیں آتا لیکن قریب سے سرکی مانگ وغیرہ بھی نظر آتی ہے ۔
(۲) اگر باریک برقع میں کئی سالوں تک نماز ادا کی گئی ہو تو کیا ان نمازوں کی قضا لازم ہے؟ اگر کسی عالم کے قول پر عمل کیا ہو تو حکم میں فرق ہوگا، یعنی کسی عالم نے یہ بتایا ہو کہ ایسے باریک برقع میں نماز ہو جاتی ہے؟ بینوا توجروا ۔
Answer
(۱) الف: کسی عورت کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ کسی نا محرم کے سامنے اس طرح باریک دوپٹہ پہنے جس میں سرکے بال وغیرہ صاف نظر آتے ہوں ۔
ملاحظہ ہو بدائع الصنائع میں مرقوم ہے:
وإن كان ثوبها رقيقاً يصف ما تحته ويشف أو كان صفيقاً لكنه يلتزق ببدنها حتى يستبين له جسدها فلا يحل له النظر لأنه إذا استبان جسدها كانت كاسية صورة عارية حقيقة وقد قال النبي ﷺ: لعن الله الكاسيات والعاريات. وروي عن سيدتنا عائشة رضي الله عنه أنها قالت: دخلت على أختي السيدة أسماء رضي الله عنه وعليها ثياب شامية رقاق وهي اليوم عندكم صفاق، فقال رسول الله ﷺ: هذه ثياب تمجها سورة النور فأمر بها فأخرجت
الخ. (بدائع الصنائع: ۵/۱۲۳، كتاب الاستحسان، ط: سعيد).
الموسوعة الفقهية
میں ہے:
ويشترط في الساتر أن لا يكون رقيقاً يصف ما تحته بل يكون كثيفاً لا يري منه لون البشرة ويشترط كذلك أن لا يكون مهلهلاً تري منه أجزاء الجسم لان مقصود الستر لا يحصل بذلك. (الموسوعة الفقهية الكويتية: ۲٤/ ۱۷٤، وزارة الاوقاف، الكويت).
ب: باریک دوپٹہ میں نماز نہیں ہو گی اس لیے کہ عورت کے لیے سر اور بالوں کا چھپانا نماز کے شرائط میں سے ہے ۔ ملاحظہ ہو مبسوط الامام السرخسی رحمه الله میں مذکور ہے:
وإن كان رقيقاً يصف ما تحته لا يحصل به ستر العورة فلا تجوز صلاته. (المبسوط: ۱/۳٤، مطلب في صفة التوشح وحكمه، ط: إدارة القرآن).
إمداد الفتاح
میں ہے:
ويشترط ستر العورة وكان سترها فرضاً للإجماع عليه في الصلاة، ولوكان في بيت مظلم، ولحديث عائشة رضي الله عنه: ولا يقبل الله صلاة حائض إلا بخمار، وصححه الحاكم، والساتر هو الذي لا يري ما تحته فالثوب الرقيق الذي يصف ما تحته لا يكون ساتراً، وفي التجنيس: امرأة صلت، وعليها ثوب رقيق يصف ما تحته، لا يجوز صلاتها لأنها بمنزلة العارية، قال عليه الصلاة والسلام: "لعن الله الكاسيات العاريات" أراد ما ذكرنا. (امداد الفتاح، ص: ۲۲۸، ط: بيروت). (وكذا في البحر الرائق: ۱/۲٦۹، وخلاصة الفتاوى: ۱/۷۳، الفصل السادس في ستر العورة من كتاب الصلاة، وفتاوى الشامي: ۱/٤۱۰، باب شروط الصلاة، سعيد، وشرح منية المصلي، ص ۲۱٤، ط: سهيل).
ج: مذکورہ بالا فقہاء کی عبارات کی روشنی میں اس کا حکم خود بخود واضح ہو جاتا ہے کہ ایسا باریک دوپٹہ جس میں کھال کا رنگ نظر آئے تو اس میں نماز نہیں ہوتی، اور کھال کا رنگ تو قریب سے نظر آتا ہے، بنا بریں اگر قریب سے نظر آتا ہے اور دور سے نظر نہیں آتا تب بھی باریک کپڑوں میں شمار ہوگا ۔
(۲) باریک دوپٹہ پہن کر جو نمازیں پڑھی گئی ہیں ان تمام کا اعادہ واجب ہے ۔ کیوں کہ شرائط نماز میں سے کوئی شرط مفقود ہو تو نماز واجب الاعادہ ہوتی ہے ۔ ملاحظہ ہو امداد الفتاح میں ہے:
وإذا أمهم زماناً ثم قال: إنه كافر ومع نجاسة مانعة أو بلا طهارة ليس عليهم إعادة لان خبره غير مقبول في الديانات لفسقه باعترافه بخلاف ما إذا صلي فتبين له فساد صلاته بنجاسة أو عدم طهارة
(امداد الفتاح، ص ۳۳۱). (وكذا في الطحطاوي على مراقي الفلاح، ص ۱۹۲، ط: بولاق).
اس عبارت سے یہ پتا چلتا ہے کہ شرائطِ نماز میں کوتاہی کی وجہ سے اعادہ لازم ہے اگر چہ کئی سال اس طرح کیا ہو ۔
فتاوی فریدیہ میں ہے:
زنانہ کے لیے باریک دوپٹہ میں نماز پڑھنا صحیح نہیں ہے اور دوبارہ باقاعدہ واجب الاعادہ ہے ۔ (فتاوی فریدیہ:
۲
/
۲۱۸
، باب شروط الصلاۃ) ۔
اگر کسی عالم کے بتانے کی وجہ سے پڑھی گئی تھی تب بھی قضا لازم ہے، البتہ اس مصلیہ پر گناہ نہیں ہوگا ۔
ملاحظہ ہو حدیث شریف میں ہے: "
من أفتي بغير علم كان إثمه على من أفتاه". (رواه أبو داود: ۲/۱۵۹، باب التوقي في الفتيا).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.