عورت کے لیے خارج البیت کام کرنے کا حکم:
Question
اگر کوئی پردہ میں رہ کر گھر سے باہر کام کرنے کے لیے نکلے تو کیا
﴿وقرن في بيوتكن﴾
کے منافی ہے یا نہیں؟ اور کام کرنے کا کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا ۔
Answer
اسلام نے عورت کو گھر کی ملکہ بنایا ہے، اور اس کے جسم کی ساخت بھی مرد سے مختلف ہے اس پر خارجی عمل کا بار ڈالنا نا انصافی اور ظلم ہے، اس کے چند اسباب ہیں:
(۱) حیض، اس زمانہ میں عورت کی طبیعت پر ایک قسم کا بوجھ ہوتا ہے ۔
(۲) الحمل، حمل کی تکالیف کے ساتھ باہر کام کرنا انتہائی مشکل ہے ۔
(۳) ولادت و نفاس ۔ ان ایام میں عورت کو مکمل آرام و راحت کی بے حد ضرورت ہے ۔
(٤) رضاعت و حضانت، بچے کو دودھ پلانا اور اس کی پر ورش اور اچھی طرح دیکھ بھال، وغیرہ ۔
(۵) ترکیب جسمانی، ان اسباب کے ماتحت عورت کے لیے نہ وقت ہے اور نہ اس کی طاقت ہے ۔
خارج البیت عمل کے عدمِ جواز کی وجوہ و اسباب:
(۱) عورت کے لیے گھر سے باہر نکلتے وقت مکمل از سر تا پا پردہ پوشی لازم اور واجب ہے ۔
(۲) فتنہ انگیز سفر عورت کے لیے ممنوع ہے، اور یہ آج کل خارج البیت عمل کے لوازمات میں سے ہے ۔
(۳) اجانب کے ساتھ خلط و اختلاط نصوصِ شرعیہ کی روشنی میں ناجائز ہے اور خارج البیت عمل میں اس سے اجتناب انتہائی مشکل ہے ۔
(٤) بے پر دگی اور مواضعِ زینت و محاسنِ جسم کے اظہار میں اکثر عورتیں ملوث ہیں ۔
(۵) امورِ خانہ داری کے حسن انتظام سے فرصت کہاں؟
حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی رحمه الله فرماتے ہیں: جو لوگ مرد کا بوجھ عورت کے نحیف کندھوں پر ڈالتے ہیں وہ عورت پر ظلم کرتے ہیں ۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل:
۸
/
۵۵
) ۔
فتاوی رحیمیہ میں ہے:
عورت کمپنی میں ملازمت کرے گی تو کئی ممنوعات کا ارتکاب ہوگا، بے پر دگی ہو گی، نا محرم مردوں کے ساتھ اختلاط اور بعض موقعوں پر خلوت اور تنہائی کا موقعہ بھی آ سکتا ہے، ان کے ساتھ بے تکلفانہ بات چیت اور نا محرم مردوں کے ساتھ آمد و رفت ہو گی وغیرہ وغیرہ، اس لیے شرعاً ایسی ملازمت کی اجازت نہیں ہو سکتی ۔ عورت پریشان حال ہو تو گزر بسر کے لیے اور کوئی جائز تدبیر اختیار کی جائے، سب سے بہتر صورت یہ ہے کہ مناسب جگہ نکاح ثانی کر لے، جب تک یہ صورت نہ ہو یا کسی وجہ سے عورت نکاحِ ثانی کے لیے آمادہ نہ ہو تو گھر میں چھوٹے بچے بچیوں کو پڑھانا شروع کر دے یا کوئی گھریلو ہنر اختیار کرے اور اس سے اخراجات کا انتظام کرے، اگر ایسی کوئی صورت نہ ہو سکے اور عورت اور بچیوں کے پاس مال نہ ہو فاقہ کی نوبت آتی ہو تو عورت اور بچیوں کے اعزاء و اقرباء پر ان کے نان، نفقہ کا انتظام کرنا لازم ہوگا، اگر وہ انتظام نہ کریں تو اہل محلہ و جماعتِ مسلمین پر یہ فریضہ عائد ہوگا ۔ (فتاویٰ رحیمیہ:
۵
/
٤۵۸
، مکتبۃ الاحسان، دیوبند) ۔
ہاں اگر کوئی انتظام نہ اور بدرجہ مجبوری عورت کو نکلنا پڑے تو درجِ ذیل شرائط کی رعایت کے ساتھ نکل سکتی ہے:
(۱) شوہر یا ولی اور سرپرست کی اجازت ضروری ہے ۔
كما هو مرقوم في عامة كتب الفقه.
(۲) نقاب پہن کر نکلے، اور سادہ برقع پہن کر نکلے نقش و نگار والے برقع سے اجتناب کرے ۔
(۳) کوئی خوشبو، پاؤڈر وغیرہ نہ لگائے، یعنی بناؤ سنگار نہ کرے ۔
(٤) سفر شرعی میں شوہر یا محرم کا ساتھ ہونا ۔
(۵) اختلاط مع الاجانب نہ ہو اور خوفِ فتنہ نہ ہو ۔
(٦) ہر وہ ملازمت ناجائز اور ممنوع ہے جس میں مرد کے ساتھ خلوت اور تنہائی لازم آتی ہے ۔
عن أسماء بنت أبي بكر رضي الله عنه قالت: تزوجني الزبير رضي الله عنه وما له في الأرض من مال ولا مملوك ولا شيء غير فرسه قالت: فكنت أعلف فرسه وأكفيه مؤنته وأسوسه وأدق النوي لناضحه وأعلفه وأستقي الماء وأخرز غربه وأعجن ولم أكن أحسن أخبز وكان يخبز لي جارات من الأنصار وكن نسوة صدق وكنت أنقل النوي من أرض الزبير التي أقطعه رسول الله ﷺ على رأسي وهي على ثلثي فرسخ، قالت: فجئت يوماً والنوي على رأسي فلقيت رسول الله ﷺ ومعه نفر من أصحابه فدعاني ثم قال: إخ إخ ليحملني خلفه
الخ. (رواه مسلم، رقم: ۲۱۸۲).
مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو : (
تكملة فتح الملهم: ٤/۲٦۱، ومسئولية المرأة المسلمة، ص ۷٦. ۸۱، وفتاوى رحيميه: ۵/۲۳۵، مكتبة الاحسان، ديوبند، وآپ كے مسائل اور ان كاحل: ۸/۵۵، طبع جديد).
اور بوقتِ ضرورت و حاجت گھر سے نکلنا
﴿وقرن في بيوتكن﴾
کے خلاف نہیں ہے ۔ اس آیتِ کریمہ کی تفسیر میں مفسرین نے مواقع ضرورت کو مستثنی قرار دیا ہے، ملاحظہ ہو : (روح المعانی:
۲۲
/
۹
) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.