تانبے پیتل کے برتن استعمال کرنے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 7 #85Urdu
Vol. 7باب (٤): احکام اللباس

Question

کیا تانبے اور پیتل کے برتن استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں؟

Answer

سونے چاندی کے علاوہ دھات مثلاً تانبا، پیتل، اسٹیل وغیرہ کے برتن استعمال کرنا جائز اور درست ہے ۔ ہاں لوہے وغیرہ کے برتن جس میں میل کچیل جما ہوا ہو اور زنگ آلودہ ہو تو ضرر اور تکلیف کے اندیشہ کی وجہ سے بعض فقہاء نے قلعی سے پہلے منع کیا البتہ قلعی کیے ہوے برتن کا استعمال درست ہے کیوں کہ ضرر کا اندیشہ نہیں ہے ۔ آج کل قلعی کیے ہوے صاف ہوتے ہیں اس وجہ سے اس کا استعمال جائز اور درست ہے ۔
ملاحظہ ہو فتاوی شامی میں ہے:

قوله (ويكره الأكل في نحاس أو صفر) وعزاه في الدر المنتقي إلى المفيد والشرعة

ثم قيد النحاس بالغير المطلي بالرصاص وهكذا قال بعض من كتب على هذا الكتاب أي قبل طلية بالقزدير والشب لأنه يدخل الصدأ في الطعام فيورث ضرراً عظيماً وأما بعده فلا، أقول: والذي رأيته في الاختيار: واتخاذها من الخزف أفضل إذ لا صرف فيه ولا مخيلة وفي الحديث: من اتخذ أواني بيته خزفاً زارته الملائكة، ويجوز اتخاذها من نحاس أو رصاص، وفي الجوهرة: وأما الآنية من غير الفضة والذهب فلا بأس بالأكل والشرب فيها والانتفاع بها كالحديد والصفر والنحاس والرصاص والخشب والطين، فتنبه. (فتاوى الشامي: ٦/۳٤۳، كتاب الحظر والإباحة، سعيد).
قال في البحر الرائق: ويجوز استعمال الأواني من الصفر لما روي عن عبد الله بن يزيد قال: أتانا رسول الله ﷺ فأخرجنا له ماء في تور من صفر فتوضأ. رواه البخاري، وأبو داود وغيرهما، ويستدل به على إباحة غير الذهب والفضة لأنه في معناه بل عينه. (البحر الرائق: ۸/۲۱۱، فصل في الأكل والشرب، دار المعرفة).
(وكذا في تبيين الحقائق: ٦/۱۱، ومجمع الأنهر في شرح ملتقي الأبحر: ٤/۱۸۳، دار الكتب العلمية).

فتاوی محمودیہ میں ہے:
پیتل اور تانبے کے برتنوں کا استعمال کرنا درست ہے ۔ البتہ اگر کفار کی مشابہت ہو تو منع ہے ۔ (فتاوی محمودیہ:
۱۹
/
۳۵۷
، جامعہ فاروقیہ) ۔
جدید فقہی مسائل میں ہے:
اسلام نے صرف سونے چاندی کے برتن استعمال کرنے سے منع کیا ہے اس لیے کہ یہ بہت زیادہ تعیش اور اللہ کی نعمتوں کا غلط اور ناروا استعمال ہے، سونے اور چاندی کے علاوہ کسی بھی دھات کا برتن استعمال کیا جا سکتا ہے ۔ یہاں تک کہ اگر برتن پر سونے اور چاندی کا پانی چڑھایا ہوا ہو تب بھی اس کا استعمال درست ہے بشرطیکہ اس کو منہ لگانے کی نوبت نہ آئے:
ولا بأس بالأكل والشرب من إناء مذهب ومفضة إذا لم يضع فاه على الذهب والفضة. (الفتاوى الهندية: ۵/۳۳٤). (
ماخوذ از جدید فقہی مسائلـ:
۱
/
۳۱۷
) ۔
مزید ملاحظہ ہو : (امداد الفتاوی:
٤
/
۱۲۸
) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.