کان میں دو تین سوراخ کرنے کا حکم:
Question
کیا عورتوں کے لیے اپنے کانوں میں بالیاں پہننے کے لیے دو تین سوراخ کرنا جائز ہے یا نہیں؟
Answer
کان میں بالیاں زینت کے لیے پہنی جاتی ہیں، جیسے ہاتھ میں انگوٹھی زینت کے لیے عورتیں پہنتی ہیں پھر زینت کا مدار عرف پر ہے بعض علاقوں میں دو دو، تین تین انگوٹھیاں پہنی جاتی ہیں یہی حال بالیوں کا بھی ہے بعض علاقہ میں ایک پر اکتفا کیا جاتا ہے اور بعض علاقوں میں دو دو، تین تین پہنی جاتی ہیں، بنا بریں جب تک غیر مسلم عورتوں کے ساتھ تشبہ نہ ہو تو اس کی گنجائش ہے ۔ ہاں فاسقات فاجرات عورتوں کی راہ روی سے بھی مسلم خواتین کو بچنا چاہیے ۔
کانوں میں بالیاں پہننے کا دستور حضور آ کرم ﷺ کے زمانہ سے چلا آ رہا ہے صحابیات بھی اپنے کانوں میں بالیاں پہنتی تھیں ۔ ملاحظہ ہو بخاری شریف میں ہے:
عن أيوب قال: سمعت عطاء قال: سمعت ابن عباس رضي الله عنه قال: أشهد على النبي ﷺ أو قال عطاء: أشهد على ابن عباس رضي الله عنه أن رسول الله ﷺ خرج ومعه بلال فظن أنه لم يسمع فوعظهن وأمرهن بالصدقة فجعلت المرأة تلقي القرط والخاتم وبلال يأخذ في طرف ثوبه. (رواه البخاري، رقم: ۹۸، باب عظة الامام النساء).
قال العلامة العيني: القرط للنساء وهو ما يحلي به الأذن من ذهب أو فضة صرفاً أو مع لؤلؤ وياقوت ونحوهما ويعلق في شحمة الأذن غالباً. (عمدة القاري: ۱٤).
قال ابن عابدين الشامي: ثقب الأذن لتعليق القرط وهو من زينة النساء
والذي في عامة الكتب وقدمناه عن التاتارخانية لا بأس بثقب أذن الطفل من البنات. (رد المحتار: ٦/٤۲۰، سعيد).
کفایت المفتی میں ہے:
کانوں میں بالیاں جب کہ عہد نبوی ﷺ میں پہنی گئیں اور شرعاً اس کو جائز رکھا گیا تو کانوں کے چھیدنے کو مثلہ یا مثلہ کے مشابہ خیال کرنا بھی غلط ہے ۔ (کفایت المفتی:
۹
/
۱۷۵
، دار الاشاعت) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.