عورتوں کے لیے مختصر قمیص پہننے کا حکم:
Question
ہمارے عرف میں عام طور پر یہ رواج ہے کہ عورتیں بوقتِ نوم بہت مختصر لباس پہنتی ہیں، اور دن میں بھی استعمال کرتی ہیں، تو کیا مسلمان عورت کے لیے گھر میں اس قسم کا لباس استعمال کرنا جائز ہو گا یا نہیں؟
Answer
گھر میں عورت کے لباس سے متعلق چند ضروری اصول حسبِ ذیل درج ہیں:
(۱) گھر میں شوہر کے سامنے بیوی کے لیے اپنے جسم کے کسی حصہ کا چھپانا واجب نہیں ہے، شوہر کے سامنے رات اور دن میں جو لباس پہننا چاہے پہن سکتی ہے۔ لیکن پھر بھی بے حیائی والا لباس پہننا مناسب نہیں۔
(۲) عورت کا اپنے محارم کے سامنے مواضع زینت: چہرہ، ہاتھ وغیرہ کا کھلا رکھنا درست ہے۔ نیز جسم کا اتنا حصہ کھول سکتی ہے جتنا گھر کے کام کاج اور نقل و حرکت کرتے وقت کھولنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔
(۳) اپنے رشتہ دار غیر محرم کے سامنے جو ایک گھر میں رہتے ہیں اور بار بار آنے جانے کی وجہ سے ہر وقت چہرہ کا پردہ مشکل ہو تو چہرہ کھلا رکھنا درست ہے۔ باقی پورا جسم مستور ہونا چاہیے مستور ہونا چاہیے۔ جیسے آپ ﷺ کی چچا زاد بہن ام ہانی کا فتح مکہ کے دن حضور ﷺ کے پاس جانا اور بات چیت کرنا ثابت ہے اس میں یہ مذکور نہیں ہے کہ ام ہانی نے چہرہ کا پردہ کیا تھا۔ ہاں فتنہ کا خوف ہو تو چہرہ کا پردہ بھی ضروری ہے نیز غیر محرم اقارب کے ساتھ خلوت اور اختلاط ممنوع ہے۔
(٤) اجنبیوں کے سامنے پورے جسم کو چھپانا لازم اور ضروری ہے، حتی کہ بلا ضرورت چہرہ کھلا رکھنا بھی جائز نہیں ہے۔
امام ابوبکر الجصاص احکام القرآن میں فرماتے ہیں:
قوله تعالى: ﴿ولا يبدين زينتهن إلا لبعولتهن﴾ الآية، قال أبو بكر: ظاهره يقتضي إباحة إبداء الزينة للزوج ولمن ذكر معه من الآباء وغيرهم ومعلوم أن المراد موضع الزينة وهو الوجه واليد والذراع لان فيها السوار والقلب والعضد وهو موضع الدملج والنحر والصدر موضع القلادة والساق موضع الخلخال فاقتضي ذلك إباحة النظر للمذكورين في الآية إلى هذه المواضع وهي مواضع الزينة الباطنة لأنه خص في أول الآية إباحة الزينة الظاهرة للأجنبيين وأباح للزوج وذوي المحارم النظر إلى الزينة الباطنة
۔
(أحكام القرآن: ۳/۳۱٦، ط: سهيل)
۔
در مختار میں ہے:
(وينظر الرجل)
(ومن عرسه وأمته)
(إلى فرجها) بشهوة وغيرها والأولى تركه لأنه يورث النسيان (ومن محرمه) هي من لا يحل له نكاحها أبداً بنسب أو سبب ولو بزنا (إلى الرأس والوجه والصدر والساق والعضد إن أمن شهوته) وشهوتها أيضاً
وإلا لا، لا إلى الظهر والبطن
وينظر من الأجنبية ولو كافرة إلى وجهها وكفيها فقط للضرورة
۔
وفي رد المحتار: قوله ومن عرسه وأمته، فينظر الرجل منهما وبالعكس إلى جميع البدن من الفرق إلى القدم ولو عن شهوة لان النظر دون الوطء الحلال
۔
(الدر المختار مع رد المحتار: ٦/۳٦٦، سعيد)
۔
فتاوی محمودیہ میں ہے:
ہاتھ کا کہنی تک یا اوپر تک اپنے محرم باپ، بھائی وغیرہ کے سامنے کھل جائے تو اس پر پکڑ نہیں لیکن نا محرم سے پردہ مکمل لازم ہے ۔ (فتاویٰ محمودیہ:
۱۹
/
۳۱۲
، جامعہ فاروقیہ) ۔
آپ کے مسائل اور ان کا حل میں ہے:
اگر ماں باپ کے گھر رہتی ہیں اور وہاں کوئی نا محرم نہیں ہے، تو آدھی آستین کا کرتا پہننا صحیح ہے ۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل:
۸
/
۳۷۱
) ۔
نیز عورتوں کو مختلف موسم کے لحاظ سے مختلف قسم کا لباس استعمال کرنے کی اجازت ہے، شریعتِ مطہرہ نے کسی خاص لباس اور وضع کی پابندی عائد نہیں کی ہے ۔ ہاں شریعت نے عام حالات میں خواتین کے لباس کی کچھ حدود مقرر کی ہیں، ان سے تجاوز کرنا درست نہیں ۔ وہ مندرجہ ذیل ہیں:
(۱) لباس اتنا چست اور باریک نہ ہو کہ جسم کی بناوٹ اور ساخت ظاہر ہو جائے ۔
(۲) غیر مسلموں اور فاسقوں کے ساتھ مشابہت نہ ہو ۔
(۳) مردوں کے لباس کے ساتھ مشابہت نہ ہو ۔
(٤) فخر و غرور اور شہرت و نمائش مقصود نہ ہو ۔
(۵) اسراف اور تبذیر نہ ہو ۔ ملاحظہ ہو : (آپ کے مسائل اور ان کا حل:
۸
/
۳٦۹
، طبع جدید) ۔
خلاصہ یہ ہے عورت اپنے گھر میں شوہر کے سامنے مختصر لباس پہن سکتی ہے، ہاں جب باہر نکلے تو پورے جسم کو چھپانا ضروری ہوگا ۔ تاہم مسلمان نیک خاتون کے لیے مناسب بلکہ واجب ہے کہ پوری شرم و حیا اور عفت و پاکدامنی کی زندگی گزارے اور کافرات، فاسقات کے ساتھ تشبہ سے اجتناب کرے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.