عورتوں کے سامنے چست لباس پہننے کا حکم:
Question
مسلمان عورت کا دوسری مسلمان عورت کے سامنے تنگ و چست لباس پہننا جس میں بدن کی ساخت ظاہر ہوتی ہو، جائز ہے یا نہیں؟
Answer
بصورتِ مسئولہ مسلمان عورت کے لیے ایسا چست لباس زیب تن کرنا جس میں اعضاء کی ساخت ظاہر ہو، جائز اور درست نہیں ہے۔
لباس کا مقصد یہ ہے کہ اعضاء مستورہ کی ساخت اور بناوٹ کو چھپا دے، چنانچہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
﴿لباساً يواري سوآتكم﴾
(سورۂ اعراف:
۳٦
)۔
حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمه الله فرماتے ہیں:
ان اعضائے انسانی کو سوءۃ کہا جاتا ہے جن کے کھلنے کو انسان فطرۃً برا اور قابل شرم سمجھتا ہے، مطلب یہ ہے کہ ہم نے تمہاری صلاح و فلاح کے لیے ایک ایسا لباس اتارا ہے، جس سے تم اپنے قابل شرم اعضاء کو چھپا سکو۔ (معارف القرآن:
۳
/
۵۳۳
)۔
لہذا جو لباس جسم کے قابل شرم اور مستور اعضاء کو نہ چھپائے یا چست ہونے کی وجہ سے ان کی ساخت نظر آئے وہ لباس ناجائز ہوگا۔
حدیث شریف میں ایسی عورتوں پر وعید وارد ہوئی ہے۔ حدیث شریف اور اس کی ضروری تشریح ما قبل میں مذکور ہوئی، وہاں مراجعت کر لی جائے۔
نیز مسلمان خاتون کے لیے یہ بات زیب نہیں دیتی کہ وہ کسی عورت کے سامنے ایسا لباس زیب تن کرے جو جسم کی بناوٹ کو ظاہر کر دے۔ چنانچہ علامہ شامی رحمه الله فرماتے ہیںـ:
لا يحل للمسلمة أن تنكشف بين يدي يهودية أو نصرانية أو مشركة إلا أن تكون أمة لها كما في السراج، ونصاب الاحتساب، ولا تنبغي للمرأة الصالحة أن تنظر إليها المرأة الفاجرة لأنها تصفها عند الرجال، فلا تضع جلبابها ولا خمارها كما في السراج. (فتاوى الشامي: ٦/۳۷۱، سعيد).
حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی رحمه الله فرماتے ہیں:
عورتوں کو ایسا باریک کپڑا پہننا جائز نہیں جس میں سے اندر کا بدن نظر آتا ہو، حدیث شریف میں ایسی عورتوں کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ وہ جنت کی خوشبو سے بھی محروم رہیں گی۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل:
۸
/
۳٦۸
)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.