چست اور تنگ لباس میں نماز کا حکم:
Question
اگر کوئی شخص ایسی تنگ پتلون پہن کر نماز پڑھے جس میں اعضائے ستر کی ہیئت نظر آتی ہو تو کیا نماز درست ہو گی یا نہیں؟ اگر درست نہیں ہوئی تو قضا واجب ہو گی یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔
Answer
ایسی تنگ اور چست پتلون پہن کر نماز پڑھنا مکروہ ہے تاہم نماز کراہت کے ساتھ ہو جائے گی اعادہ واجب نہیں ہے، اور ایسا چست لباس پہننا خارجِ نماز بھی مکروہ ہے ۔ فتاوی شامی میں مذکور ہیـ:
قوله ولا يصف ما تحته بأن لا يرى منه لون البشرة احترازاً عن الرقيق ونحو الزجاج، قوله ولا يضر التصاقه أي بالألية مثلاً وقوله وتشكله من عطف المسبب على السبب وعبارة شرح المنية أما لو كان غليظاً لا يري منه لون البشرة إلا أنه التصق بالعضو وتشكل بشكله فصار شكل العضو مرئياً فينبغي أن لا يمنع جواز الصلاة لحصول الستر. (فتاوى الشامي: ۱/ ٤۱۰، سعيد).
کتاب المسائل میں مرقوم ہے:
ایسا چست لباس پہننا جس سے اعضاء مستورہ کی ہیئت ظاہر ہو جائے اگر چہ مکروہ اور بے حیائی کی دلیل ہے ؛ تاہم اگر کپڑا اتنا دبیز ہو کہ اندر کی کھال نظر نہ آئے تو اس میں نماز پڑھنا درست ہے ۔ (کتاب المسائل: ۱/۲۷۳) ۔
دوسری جگہ مرقوم ہے: کَسی ہوئی جینز اور ٹی شرٹ پہن کر نماز پڑھنے سے گو کہ نماز بہ کراہت درست ہو جاتی ہے ؛ لیکن ہمارے عرف میں یہ لباس صالحین کے لباس کے خلاف سمجھا جاتا ہے ۔ (کتاب المسائل: ۱/۲۷۱) ۔
فتاوی دار العلوم زکریا میں مرقوم ہے:
لباس کے چند بنیادی اصول: (٦) نیچے پتلون اور اوپر شرٹ پہن لیا تو یہ لباس ناجائز تو نہیں، لیکن صلحاء کا لباس نہ ہونے کی وجہ سے خلاف اولی ہے اور اگر اس میں اعضائے مستورہ کی بناوٹ ظاہر ہوتی ہے تو مزید کراہت پیدا ہو جائے گی ۔
وأما اللباس المكروه فعلي ثلاثة أوجه:
والثاني: لباس الرقاق الذي يبين منه البدن لأنه لباس أهل التكبر والخيلاء والأشر، ومن لا اهتمام له بأمر الآخرة
(النتف في الفتاوى، ص ۱٦۱، ۱٦۲). (
فتاوی دار العلوم زکریا: ۷/۸۲، ط: زمزم پبلشرز) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.