وقت تنگ ہونے کی بنا پر ظہر سے قبل دو رکعت پڑھنے سے سنتِ ظہر کا حکم:
Question
ایک شخص ایسے وقت مسجد میں پہنچا کہ فقط دو منٹ باقی تھے، جس میں چار رکعات پڑھنے کی گنجائش نہیں تھی، اس نے سنت کی نیت سے دو رکعات پڑھیں، اب یہ دو رکعتیں سنتِ ظہر کے قائم مقام بن گئیں یا نمازِ ظہر کے بعد چار رکعات سنت کی نیت سے پڑھنا پڑے گا؟ اگر عجلت کی وجہ سے چھوڑ دی تو گنہگار ہو گا یا نہیں؟
Answer
قبل الظہر چار رکعات ایک سلام کے ساتھ سنتِ مؤکدہ ہیں، دو رکعات اس کے قائم مقام نہیں ہوں گی، ہاں اگر کسی ضروری کام کی وجہ سے کبھی ایسا اتفاق ہو گیا تو ترکِ سنت کا گناہ نہیں ہو گا لیکن اس کو معمول نہیں بنانا چاہیے ۔ سنتِ مؤکدہ کو بلا عذر چھوڑنے کا معمول بنانا گناہ اور قابل ملامت ہے ۔
ملاحظہ ہو در مختار میں ہے:
وسن مؤكداً أربع قبل الظهر وأربع قبل الجمعة وأربع بعدها بتسليمة فلو بتسليمتين لم تنب عن السنة. وفي الشامية: قوله (وسن مؤكداً) أي استناناً مؤكداً بمعني أنه طلب طلباً مؤكداً زيادة على بقية النوافل ولهذا كانت السنة مؤكدة قريبة من الواجب في لحوق الإثم كما في البحر ويستوجب تاركها التضليل واللوم كما في التحرير أي على سبيل الإصرار بلا عذركما في شرحه. قوله لم تنب عن السنة، ظاهره أن سنة الجمعة كذلك وينبغي تقييده بعدم العذر للحديث المذكور آنفاً كذا بحثه في الشرنبلالية. (الدر المختار مع رد المحتار: ۲/۱۲، سعيد).
وفي رد المحتار: قوله فله تركها، الظاهر أن معناه أنه يتركها وقت اشتغاله بالإفتاء لأجل حاجة الناس المجتمعين عليه وينبغي أنه يصليها إذا فرغ في الوقت
وينبغي أن يكون القاضي وطالب العلم كذلك. (فتاوى الشامي: ۲/۱۵، سعيد).
فتاوی رحیمیہ میں مذکور ہے: ظہر سے قبل جو چار رکعات سنتِ مؤکدہ ہیں ان کو ایک سلام کے ساتھ پڑھنا ہے، اگر دو رکعت پر سلام پھیر دیا تو یہ سنت شمار نہ ہوگی، بعد میں چار رکعت ایک سلام سے پڑھے ۔ بحوالہ مراقی، و شامی ۔ (فتاوی رحیمیہ: ۳/۱۸۷، مکتبۃ الاحسان، دیوبند) ۔
عمدۃ الفقہ میں مرقوم ہے:
چار رکعت والی سنتِ مؤکدہ (یعنی ظہر و جمعہ سے قبل اور جمعہ کے بعد والی سنتوں) کو ایک سلام سے ادا کرنا سنتِ مؤکدہ ہے یعنی چاروں پڑھ کر چوتھی رکعت کے بعد سلام پھیرے اگر ان کو دو سلاموں سے ادا کیا یعنی دو دو رکعت پر سلام پھیرا تو وہ ان سنتوں کی جگہ ادا نہ ہوں گی اس لیے دوبارہ ایک سلام سے ادا کرے ۔ (عمدۃ الفقہ: ۲/۲۹۷) ۔
سنتِ مؤکدہ کا ترک بلا عذر مکروہِ تحریمی ہے ہاں بوقتِ عذر مکروہ اور گناہ نہیں ۔ ملاحظہ ہو البحر الرائق میں ہے:
وحاصله أن السنة إذا كانت مؤكدة قوية لا يبعد أن يكون تركها مكروهاً كراهة تحريم كترك الواجب فإنه كذلك وإن كانت غير مؤكدة فتركها مكروه تنزيهاً. (البحر الرائق: ۲/۳٤، ط: دار المعرفة، بيروت). (وكذا في فتاوى الشامي: ۱/٦۵۳، سعيد).
کتاب المسائل میں مرقوم ہے:
اصطلاحِ فقہ و حدیث میں فرض اور واجب کے علاوہ جتنی بھی نمازیں ہیں سب کو تطوع (نفل) کہا جاتا ہے، پھر اس تطوع کی بنیادی طور پر بالترتیب تین قسمیں ہیں: (۱) سنن مؤکدہ ؛ یہ کل بارہ رکعتیں ہیں ان میں سے کسی بھی سنت کو بلا عذر چھوڑنا گناہ ہے ۔ (کتاب المسائل: ۱/٤۸۲، نعیمیہ دیوبند) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.