سنتِ مؤکدہ کی چوتھی رکعت میں سورۂ فاتحہ کی جگہ تشہد پڑھنے سے نماز کا حکم:

3 min readFatwa Vol 9 #49Urdu
Vol. 9باب… )۲( نماز سے متعلق متفرق مسائل

Question

زید سنتِ مؤکدہ کی چار رکعت پڑھ رہا تھا، چوتھی رکعت میں بجائے سورۂ فاتحہ کے التحیات شروع کر لی پھر یاد آنے کے بعد سورۂ فاتحہ پڑھی، اب سجدۂ سہو واجب ہوا یا نہیں؟

Answer

سنت اور نفل کی تمام رکعتوں میں قراءت کرنا واجب اور لازم ہے، اور چوتھی رکعت میں تشہد شروع کیا جس کی وجہ سے سورۂ فاتحہ میں تاخیر ہوئی، لہٰذا سجدۂ سہو واجب ہوگا، ہاں پہلی رکعت میں اگر ایسا کیا تو سجدۂ سہو واجب نہیں ہوگا کیونکہ وہ محل ثنا ہے ۔ ملاحظہ ہو فتاوی ہندیہ میں ہے:

وتجب قراءة الفاتحة وضم السورة أو ما يقوم مقامها من ثلاث آيات قصار أو آية طويلة في الأوليين بعد الفاتحة كذا في النهر الفائق وفي جميع ركعات النفل والوتر هكذا في البحر الرائق، ويجب تقديم الفاتحة على السورة. (الفتاوى الهندية: ۱/۷۱).
قال في التبيين: وعن محمد رحمه الله: لو تشهد في قيامه قبل قراءة الفاتحة فلا سهو عليه وبعدها يلزمه سجود السهو وهو الأصح لأن بعد الفاتحة محل قراءة السورة فإذا تشهد فيه فقد أخر الواجب وقبلها محل الثناء. (تبيين الحقائق: ۱/۱۹۳، ط: إمداديه).
وفي الهندية: ولا يجب السجود إلا بترك واجب أو تأخيره أو تأخير ركن أو تقديمه أو تكراره أو تغيير واجب بأن يجهر فيما يخافت وفي الحقيقة وجوبه بشيء واحد وهو ترك الواجب كذا في الكافي. (الفتاوى الهندية: ۱/۱۲٦).
وفي الهندية: ولا يجب السجود إلا بترك واجب أو تأخيره أو تأخير ركن أو تقديمه أو تكراره أو تغيير واجب بأن يجهر فيما يخافت وفي الحقيقة وجوبه بشيء واحد وهو ترك الواجب كذا في الكافي. (الفتاوى الهندية: ۱/۱۲٦).

احسن الفتاوی میں مرقوم ہے:
سوال: الحمد کی جگہ" التحیات للہ و الصلوات" تک پڑھ گیا تو سجدۂ سہو واجب ہے یا نہیں؟
الجواب: فاتحہ سے قبل تشہد پڑھنے سے فرض قراءت میں تاخیر ہوئی، اور فرض میں تاخیر بقدر تین بار سبحان ربی الاعلی موجبِ سہو ہے، اس کے مجموعہ حروف مقروء ہ بیالیس ہیں اور تشہد میں ایہا کی ھ تک بیالیس حروف مقروء ہ ہو جاتے ہیں، لہٰذا سہواً یہاں تک پڑھ گیا تو سجدۂ سہو واجب ہوگا اس سے کم پر نہیں، فقط واللہ تعالی اعلم ۔ (احسن الفتاوی: ٤/۳۵) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.