نماز میں عورت کا گلا کھلا رہ جائے تو نماز کا حکم:
Question
ایک عورت نے نماز پڑھی اور نماز کے دوران اس کا حلق کھلا ہوا تھا،، اس پر دوپٹہ یا کپڑا نہیں تھا، باقی بدن مستور تھا تو اس عورت کی نماز ہوئی یا نہیں؟ یعنی حلق کا چھپانا لازم ہے یا نہیں؟
Answer
عورت کا پورا بدن ستر میں داخل ہے لہٰذا نماز میں اس کا چھپانا فرض ہے فقط چہرہ، دونوں ہتھیلی اور دونوں قدم، ان اعضاء کا چھپانا لازم نہیں، چنانچہ اگر گلا کھلا رکھ کر نماز پڑھی تو نماز نہیں ہوئی، اس کا اعادہ لازم ہو گا ۔ ملاحظہ ہو امداد الفتاح میں مرقوم ہے:
ولا بد لصحة الصلاة من سبعة وعشرين شيئاً
وستر العورة
وجميع بدن الحرة عورة إلا وجهها وكفيها وقدميها. (إمداد الفتاح، ص ۲۲٦).
علامہ شامی رحمه الله نے اعضائے مستورہ میں عنق کا تذکرہ فرمایا ہے ؛ ملاحظہ ہو :
أعضاء عورة الرجل ثمانية
وفي الأمة ثمانية أيضاً
وفي الحرة هذه الثمانية ويزاد فيها ستة عشر
العنق. (فتاوى الشامي: ۱/٤۰۹، سعيد).
عنق گلا اور گردن دونوں کو شامل ہے ؛ علامہ شامی رحمه الله نے ذبح اختیاری کا تذکرہ کرتے ہوے لکھا ہے کہ حلق کا لفظ کبھی کبھی عنق کے لیے استعمال ہوتا ہے اور دونوں میں علاقہ جزئیت ہے یعنی عنق کل ہے اور حلق اس کا ایک جزو ہے ۔ عبارت ملاحظہ ہو :
وذكاة الاختيارية ذبح بين الحلق واللبة، الحلق في الأصل الحلقوم كما في القاموس: أي من العقدة إلى مبدء الصدر، وكلام التحفة والكافي وغيرهما يدل على أن الحلق يستعمل في العنق بعلاقة الجزئية، فالمعنى بين مبدء الحلق؛ أي أصل العنق. (فتاوى الشامي: ٦/۲۹٤، سعيد).
علامہ زیلعی رحمه الله نے نحر و ذبح کی تعریف میں لکھا ہے کہ نحر اسفل العنق میں ہوتا ہے اور ذبح اعلی العنق میں ہوتا ہے اور یہ ایک بدیہی بات ہے کہ نحر و ذبح دونوں حلق میں ہوتے ہیں، اس سے معلوم ہوا کہ عنق حلق کو شامل ہے ۔
عبارت ملاحظہ ہو :
والنحر قطع العروق في أسفل العنق عند الصدر والذبح قطع العروق في أعلى العنق تحت اللحيين. (تبيين الحقائق: ۵/۲۹۳، إمداديه).
عمدۃ الفقہ میں ہے: آزاد عورتوں کے لیے پانچ عضو (منہ" چہرہ "دونوں ہتھیلیوں اور دونوں قدموں) کے علاوہ سارا بدن ستر ہے اور وہ تیس اعضاء ہیں: (۵) گردن اس میں گلا بھی داخل ہے ۔ (عمدۃ الفقہ: ۲/۵٤) ۔
عام طور پر عورتیں جب برقع یا دوپٹہ پہنتی ہیں تو گلے کو بھی چھپاتی ہیں لہٰذا اس میں کوئی دشواری بھی نہیں ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.