فرض نماز میں اضطباع باقی رکھنے کا حکم:
Question
ایک شخص طواف کر رہا تھا جس میں اضطباع سنت ہے لیکن طواف کے درمیان فرض نماز کی تکبیر شروع ہو گئی، اب سب صفوں میں کھڑے ہو گئے تو یہ شخص بھی صف میں کھڑا ہو گیا اور اضطباع بھی باقی تھا کسی نے بتایا کہ مونڈھے کو ڈھانک کر نماز پڑھو اس نے ایسا ہی کیا، اب دریافت یہ کرنا ہے کہ اس کا یہ عمل درست تھا یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔
Answer
علمی مکاتیب میں لکھا ہوا ہے کہ اس سلسلہ میں کوئی صریح عبارت نہیں ملی، لیکن اصولی طور پر یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اولاً: اضطباع سنت ہے ۔ ثانیاً یہ سنت طواف کے چکروں کے لیے ہے، اس سے پہلے یا بعد میں نہیں ہے ۔ ثالثاً: مونڈھا کھلا رکھ کر نماز پڑھنا مکروہ ہے ۔ لہذا دورانِ طواف اگر جماعت کھڑی ہو جائے تو نماز پڑھتے ہوے اضطباع باقی نہ رکھنا چاہیے ۔ اور اضطباع باقی نہ رکھنے سے طواف میں کوئی فرق نہیں پڑے گا، البتہ نماز کے بعد بقیہ طواف پورا کرتے ہوے دوبارہ اضطباع کر لینا چاہیے ۔
في مناسك الملا علي القاري: (ص۱۲۹) :
إذا أراد الشروع فيه أي في الطواف بعده سعي، فإنه حينئذٍ يسن الاضطباع والرمل له، ينبغي أن يضطبع قبله أي قبل شروعه فيه بقليل، وليس كما يتوهمه العوام من أن الاضطباع سنة جميع أحوال الإحرام، بل الاضطباع سنة مع دخوله في الطواف على ما صرح به الطرابلسي وغيره، لكن قال: ولو اضطبع قبل شروعه في الطواف بقليل فلا بأس به، وهذا يقتضي أفضلية المعية.
واعلم أن الاضطباع سنة في جميع أشواط الطواف كما صرح به ابن الضباع، فإذا فرغ من الطواف فيترك الاضطباع حتى إذا صلى ركعتي الطواف مضطبعاً يكره لكشف منكبه. (
علمی مکاتیب لمولانا مرغوب احمد لاجپوری، ص۱۸٤) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.