حاجبین کے بال ٹھیک کرنے کا حکم:
Question
اگر حاجبین کے بال لمبے ہوں تو ان کا کاٹنا اور ٹھیک کرنا جائز ہے یا نہیں؟ نیز حدیث شریف میں
"لعن الله المتنمصات"
آیا ہے اس کی کیا توجیہ ہے؟ بینوا توجروا ۔
Answer
بصورتِ مسئولہ حاجبین کے بال اگر حد سے زیادہ لمبے ہوں اور گھنے ہو جائیں کہ قابل نفرت معلوم ہوں تو ان کا کاٹنا اور ٹھیک کرنا جائز اور درست ہے، یہ ازالہ عیب کے قبیل سے ہے، ہاں بلا ضرورت کاٹنا اور باریک کرنا جیسا کہ اس زمانہ میں اکثر بازاری عورتوں کا طریقہ ہے یہ جائز اور درست نہیں حدیث شریف میں اسی کی ممانعت وارد ہوئی ہے ۔
ملاحظہ ہو فتاوی الشامی میں ہے:
وفي التاتارخانية عن المضمرات: ولا بأس بأخذ الحاجبين وشعر وجهه ما لم يشبه المخنث، ومثله في المجتبى. (فتاوى الشامي: ٦/۳۷۳، ط: سعيد، ۲/٤۱۸، سعيد).
(وكذا في الفتاوى الهندية: ۵/۳۵۸، والموسوعة الفقهية الكويتية: ۱۱/۲۷۳).
آپ کے مسائل میں ہے:
بھوں کے بال بڑھ جائیں تو ان کو کٹوانا جائز ہے مگر نوچنے سے اکھیڑنا درست نہیں ۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل:
۸
/
۳٤۷
، طبع جدید) ۔
حدیث شریف کی توجیہ ملاحظہ کیجیے:
موجودہ دور کے فیشن کے اتباع میں بھوں کو باریک کرنا یہ ناجائز ہے جیسا کہ اکثر عورتیں کرتی ہیں ۔
قال الإمام أبو داود: وتفسير الواصلة:
والنامصة: التي تنقش الحاجب حتى ترقه.
امام ابو داود رحمه الله فرماتے ہیں کہ
"نامصه"
اس عورت کو کہتے ہیں جو بھوں کو باریک کرتی ہے ۔ (سنن ابی داود:
۲
/
۲۱۸
) ۔
قال في البحر الرائق: والنامصة: هي التي تنقص الحاجب لتزينه، والمتنمصة: هي التي يفعل بها ذلك. (البحر الرائق: ٦/۸۸، باب البيع الفاسد، دار المعرفة، وكذا فتح القدير: ٦/٤۲٦، بيروت).
قال ابن عابدين الشامي رحمه الله: قوله والنامصة: ذكره في الاختيار أيضاً وفي المغرب: النمص نتف الشعر ومنه المنماص المنقاش، ولعله محمول على ما إذا فعلته لتتزين للأجانب وإلا فلو كان في وجهها شعر ينفر زوجها عنها بسببه ففي تحريم إزالته بعد لان الزينة للنساء مطلوبة للتحسين إلا أن يحمل على ما لا ضرورة إليه لما في نتفه بالمنماص من الإيذاء. (فتاوى الشامي: ٦/۳۷۳، سعيد).
شیخ ربیع بن حبیب الازدی البصری رحمه الله فرماتے ہیں کہ نامصہ اس عورت کو کہتے ہیں جو حاجبین کے بال کاٹ لے تاکہ باریک سیدھی لکیر بن جائے ۔
قال الربيع: النامصة التي تأخذ من شعر حاجبها ليكون رقيقاً معتدلاً. (مسند الربيع، ص ۲۵۰، ط: بيروت).
فتاوی بینات میں ہے:
عورتوں کے لیے بھویں بنانا دھاگا یا کسی اور چیز سے جائز نہیں ہے ۔ حدیث شریف میں ایسی عورتوں پر لعنت آئی ہے اور ایسا کرنا تغییر لخلق اللہ کے زمرہ میں آتا ہے، جیسا کہ حدیث میں ہے: "
لعن الله الواصلة والمستوصلة والواشمة والمستوشمة"
۔ البتہ قینچی کی مدد سے کم کر سکتی ہے، جب کہ مخنث کی مشابہت نہ ہو ۔ (فتاوی بینات:
٤
/
٤۰٦
، مکتبہ بینات) ۔ مزید ملاحظہ ہو : (جدید فقہی مسائل:
۱
/
۳۱۰
، نعیمیہ) ۔
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.