ایک غلط فہمی کا ازالہ
Question
ایک غلط فہمی کا ازالہ
Answer
بسم اللہ الرحمن الرحیم
ہمارے علاقے ضلع صوابی پاکستان کے ایک مولانا صاحب کو ختنہ کی دعوت کے سلسلہ میں مواد درکار تھا، بندۂ عاجز نے عرض کیا کہ ہمارے پاس فتاوی دار العلوم زکریا کے لیے اس مسئلہ پر جو مواد موجود ہے وہ ان شاء اللہ تعالی میں آپ کو دے دوں گا۔
ہم نے فتاوی دار العلوم زکریا جلد ہفتم کے لیے جو جواب اور مفصل مضمون مرتب کیا تھا وہ ٹائپ شدہ مضمون میں نے ان کی خدمت میں پیش کیا، کچھ مدت کے بعد ایک مفتی صاحب نے "دعوتِ ختنہ کی شرعی حیثیت" کے نام سے ایک رسالہ مرتب کیا اور ہمارا پورا مضمون اس رسالہ میں لے لیا، اور اس رسالہ پر مختلف مفتی حضرات "جن میں دار العلوم دیوبند کے صدر مفتی حضرت مولانا حبیب الرحمن خیر آبادی بھی شامل ہیں" سے تقریظات لکھوا کر شامل کر لیں، امانت کا تقاضا یہ تھا کہ ہمارے مضمون کو ہمارا نام لیکر چھاپتے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔
ناظرین کی اس سمع خراشی کا مقصد یہ ہے کہ کوئی ہمارے اس مضمون یا سوال و جواب کو علمی سرقہ نہ سمجھے، یہ مسئلہ پہلے فتاوی دار العلوم زکریا میں مختصر طور پر آیا تھا لیکن اس پر بعض حضرات کے اشکالات کی وجہ سے تفصیل درکار تھی جو تحریر کی گئی، اس میں ہم سے یہ غلطی ہوئی کہ جلد ہفتم کی طباعت سے پہلے، طباعت کے لیے تیار مفصل مضمون دوسرے حضرات کے حوالہ کر دیا۔
فإلى الله المشتكى
۔
کتبہ: (حضرت مفتی) رضاء الحق عفا اللہ عنہ
فصل چہارم
ختنہ سے متعلق احکام کا بیان
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.