ریڈیو پر سلام کا جواب دینے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 7 #164Urdu
Vol. 7باب (٦): سلام، تقبیل، مصافحہ اور معانقہ کے احکام

Question

ریڈیو پر سلام کیا گیا تو سامع پر جواب دینا واجب ہے یا نہیں؟

Answer

ریڈیو پر کیے گئے سلام کا جواب دینا واجب نہیں ہے، البتہ احتیاطاً جواب دینا بہتر ہے کیوں کہ یہ کلمہ دعائیہ ہے اور دعا غائبانہ بھی ہوتی ہے ۔
ملاحظہ ہو شرح ریاض الصالحین میں ہے:

والسلام بمعني: الدعاء بالسلامة من كل آفة، فإذا قلت لشخص: السلام عليك، فهذا يعني إنك تدعو له بأن الله يسلمه من كل آفة: يسلمه من المرض، من الجنون، يسلمه من الناس، يسلمه من المعاصي، وأمراض القلوب، يسلمه من النار، فهو لفظ عام، معناه: الدعاء للمسلَّم عليه بالسلامة من كل آفة. (شرح رياض الصالحين: ۲/۱۱۳۷).

حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمه الله آلاتِ جدیدہ کے شرعی احکام میں تحریر فرماتے ہیں:
رہا یہ مسئلہ کہ کسی نے السلام علیکم ریڈیو پر کہہ دیا تو سننے والوں پر جواب دینا واجب ہے یا نہیں، تو مقتضی قواعد کا یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس واجب کی ادآئے گی اس طرح کہ سلام کرنے والے کو اس کا جواب معلوم ہو جائے، سننے والوں کی قدرت میں نہیں، اس لیے وجوبِ جواب تو ساقط ہو جانا چاہیے، البتہ احتیاطاً جوابِ سلام دے دیں تو بہتر ہے، کیوں کہ یہ ایک کلمہ دعا کا ہے، اور دعا غائبانہ بھی ہو سکتی ہے ۔ (آلاتِ جدیدہ کے شرعی احکام، ص۱٦۷) ۔

قال في الهندية: لا يسقط فرض جواب السلام إلا بالإسماع كما لا يجب إلا بالإسماع كذا في الغياثية. (الفتاوى الهندية: ۵/۳۲٦).

حضرت تھانوی رحمه الله امداد الفتاوی میں فرماتے ہیں:
اعلام ضروری ہے، اگر قریب ہو تو اسماع سے اور اگر بعید یا اصم ہو تو اشارہ سے مع تلفظ بلسان کے، بعض صحابہ
ث
نے آنحضرت ﷺ کے سلام کا جواب نہایت آہستہ سے دیا یہ فعل عارض سے تھا، فلا یقاس علیہ غیرہ ۔ (امداد الفتاوی: ٤/۲۷٦) ۔
البتہ مفتی رشید احمد لدھیانوی رحمه الله فرماتے ہیں کہ قدرت ہو تو اسماعِ جواب واجب ہے اگر قدرت نہ ہو تو اسماع واجب نہیں ہے ۔ ملاحظہ ہو : (احسن الفتاوی:
۸
/
۱۳۹
، وج
۹
/
۱۹
، مسائل شتی) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.