کافر کے سلام کے جواب کا حکم:
Question
اگر مسلمانوں کے ریڈیو اسٹیشن پر کوئی غیر مسلم ملازم ہے تو اس کے لیے السلام علیکم کہنا درست ہے یا نہیں؟ اور اگر کہے تو اس کا جواب دیا جائے یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔
Answer
سلام دعا ہے اور اگر کوئی کافر مسلمان کے لیے دعا کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں، نیز جس کافر نے رسول اللہ ﷺ کو سلام کیا تھا تو آنحضرت ﷺ نے اس کو منع نہیں کیا تھا، کہ تم نے کیوں سلام کیا بلکہ اس کے جواب میں وعلیک فرمایا تھا، کیوں کہ کافر نے بجائے السلام علیک کے السام علیک کہا تھا ۔
نیز فقہاء نے کافر کے سلام کے جواب میں وعلیک یا ہداک اللہ کہنا فرمایا ہے اس کو سلام سے منع نہیں کیا، ہاں اگر کسی جگہ اشتباہ اور التباس کی وجہ سے مصلحۃً ان کو منع کریں تو دوسری بات ہے، بلکہ یہودی کے سلام کرنے سے پتا چلتا ہے کہ غیر مسلم سلام کیا کرتے تھے، جیسے ان کو حج سے منع کیا گیا، سلام سے منع نہیں کیا گیا ۔
ہاں اگر یہ اشکال ہو کہ کافر کی دعا تو قبول نہیں ہوتی، اس کا جواب یہ ہے کہ آخرت کے بارے میں ان کی دعا قبول نہیں ہوتی،
﴿وما دعاء الكافرين إلا في ضلال﴾
لیکن دنیاوی معاملات میں ان کی دعا قبول ہو سکتی ہے شیطان نے قیامت تک کی مہلت کی دعا مانگی اور قبول ہوئی ۔
﴿قال: أنظرني إلى يوم يبعثون، قال: إنك من المنظرين﴾.
علامہ ابو بکر الکاسانی بدائع الصنائع میں فرماتے ہیں:
ويكره الابتداء بالتسليم على اليهودي والنصراني لان السلام اسم لكل بر وخير ولا يجوز مثل هذا الدعاء للكافر إلا أنه إذا سلم لا بأس بالرد عليه مجازاة له ولكن لا يزيد على قوله وعليك لما روي عن رسول الله ﷺ أنه قال: إن اليهود إذا سلم عليكم أحدهم فإنما يقول: السام عليكم، فقولوا: وعليك. (بدائع الصنائع: ۵/۱۲۸، سعيد).
وفي فتاوى الشامي: فلا يسلم ابتداء على كافر لحديث
وإذا سلم أهل الذمة ينبغي أن يرد عليهم الجواب وبه نأخذ ولكن لا يزيد على قوله وعليك لأنه قد يقول: السام عليكم أي الموت كما قال بعض اليهود للنبي ﷺ فرد دعائه عليه. (فتاوى الشامي: ٦/٤۱۲. ٤۱۳، سعيد).
البتہ غیر مسلم کو ابتداء بالسلام نہیں کرنا چاہیے کرنا چاہیے کرنا چاہیے ۔ ملاحظہ ہو حدیث شریف میں ہے:
عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله ﷺ قال: لا تبدءوا اليهود ولا النصارى بالسلام. (رواه مسلم، رقم: ۲۱٦۷).
فقہاء نے بھی مکروہ لکھا ہے ۔ کما مر ۔
احسن الفتاوی میں ہے: کافر کے سلام کا جواب دینا جائز ہے مگر جواب میں صرف و علیک کہے ۔ (احسن الفتاوی:
۸
/
۱۳٤
) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.