بوقتِ مصافحہ ہاتھوں کو جھٹکا دینے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 7 #173Urdu
Vol. 7باب (٦): سلام، تقبیل، مصافحہ اور معانقہ کے احکام

Question

بعض لوگ مصافحہ کرتے وقت ہاتھوں کو جھٹکا دیتے ہیں، شرعاً اس کی کیا حیثیت ہے؟ بینوا توجروا ۔

Answer

تتبع کثیر کے باوجود احادیث میں اس کی صراحت نہیں ملی، اس لیے یہ مسنون نہیں البتہ عادۃً یا عرفاً لوگ اس طرح کرتے ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں، ہاں اگر سنت یا ثواب سمجھتے ہو تو یہ بدعت اور قابل ترک ہے، بعض حضرات نے ایک روایت نقل کی ہے جس کے الفاظ درجِ ذیل ہیں:

"من صافح أخاه المسلم وحرك يده تناثرت عنه ذنوبه". الدراية
اور
نصب الراية
میں اس کی نسبت المعجم الاوسط للطبرانی کی طرف کی گئی ہے لیکن اس میں یہ روایت اس طرح مذکور ہے:

عن حذيفة بن اليمان رضي الله عنه عن النبي ﷺ قال: إن المؤمن إذا لقي المؤمن فسلم عليه وأخذ بيده فصافحه تناثرت خطاياهما كما تناثرت ورق الشجر. (رواه الطبراني في الأوسط، رقم: ۲۴۵).

اس میں حرک یدہ کے الفاظ موجود نہیں ہے ۔ اسی وجہ سے علماء نے اس کو غیر معروف قرار دیا ہے ۔
ملاحظہ ہو ملا علی قاری رحمه الله فرماتے ہیں:

وأما قول صاحب الهداية: عنه عليه الصلاة والسلام: "من صافح أخاه المسلم وحرك يده

. فقوله "حرك يده" غير معروف. (فتح باب العناية: ٤/٤۰، كتاب الكراهية، بيروت).

خلاصہ یہ ہے کہ
"حرك يده"
کے الفاظ غیر معروف ہیں ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.