مصافحہ کرتے وقت انگوٹھا دبانے کا حکم:
Question
مصافحہ میں انگوٹھا پکڑ کر دبانے کی کیا حیثیت ہے مستحب یا سنت؟ بعض لوگ اس کو سنت یا مستحب قرار دیتے ہیں ۔ بینوا توجروا ۔
Answer
بوقتِ مصافحہ انگوٹھا پکڑ کر دبانا نہ سنت ہے اور نہ مستحب اور نہ اس بارے میں کوئی روایت کتبِ حدیث میں منقول ہے، بنا بریں یہ خرافاتِ عوام میں سے ہے اور قابل ترک ہے ۔
حضرت مفتی کفایت اللہ صاحب رحمه الله فرماتے ہیں:
انگوٹھوں کا پکڑنا مصافحہ کے مفہوم میں داخل نہیں اس کے معنی ہاتھ ملانے کے ہے نہ ایک انگوٹھا پکڑنا مسنون ہے اور نہ دونوں ۔ (کفایت المفتی: ۹/۱۰۸) ۔
اشرف الاحکام میں ہے:
مصافحہ کی ترکیب میں مشہور ہے کہ انگوٹھوں کو دبا دے یہ بے اصل ہے اور یہ حدیث موضوع ہے کہ انگوٹھوں میں رگِ محبت ہے ۔ (اشرف الاحکام، ص۱۹۳، بحوالہ حسن العزیز: ٤/۲۳٦) ۔
قال ابن عابدين رحمه الله: المصافحة هي إلصاق صفحة الكف بالكف وإقبال الوجه بالوجه فأخذ الأصابع ليس بمصافحة خلافاً للروافض والسنة أن تكون بكلتا يديه وبغير حائل من ثوب أو غيره وعند اللقاء بعد السلام وأن يأخذ الإبهام فإن فيه عرقاً ينبت المحبة كذا جاء في الحديث، ذكره القهستاني وغيره. (فتاوى الشامي: ٦/۳۸۲، سعيد). (وكذا في حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح نقلاً عن القهستاني، ص ۲۱۵، ط: بولاق، وجامع الرموز للقهستاني: ۳/۳۱٦).
علامہ شامی رحمه الله اور علامہ طحطاوی رحمه الله نے یہ حدیث قہستانی سے نقل کی ہے اور قہستانی نے کوئی حوالہ نہیں دیا نیز خود قہستانی پر علامہ شامی رحمه الله وغیرہ حضرات نے جرح کی ہے لہذا اس حدیث کا اعتبار نہیں ۔
قال الإمام اللكنوي في "غيث الغمام" (ص: ۳۰) عن جامع الرموز: وهو من الكتب غير المعتبرة لعدم الاعتماد على مؤلفه قال على القاري المكي: قال عصام الدين في حق القهستاني: إنه لم يكن من تلامذة شيخ الإسلام الهروي، لا من أعاليهم، ولا من أدانيهم، وإنما كان دلال الكتب في زمانه، ولا كان يعرف الفقه، ولا غيره بين أقرانه، ويؤيده أنه يجمع في شرحه هذا بين الغث والسمين، والصحيح والضعيف من غير تصحيح، ولا تدقيق، فهو كحاطب الليل، جامع بين الرطب واليابس في الليل [ت: نحو ۹۵۳ هـ] انظر: دفع الغواية، ص۳۷، وتذكرة الراشد، ص۵٦. (تعليقات فتاوى اللكنوي، ص ۳۳).
احسن الفتاوی میں ہے:
علامہ ابن عابدین نے حدیث کی کسی کتاب کا حوالہ نہیں دیا بلکہ قہستانی کا حوالہ ہے، قہستانی کو دیکھا گیا تو اس میں بھی حدیث کی کسی کتاب کا حوالہ نہیں ملا، پھر کتبِ حدیث میں تلاش کیا گیا مگر اس کا کچھ پتا نہ چل سکا، اگر اس کا کوئی ثبوت ہوتا تو مصافحہ کثیر الوقوع عمل سے متعلق ہونے کی وجہ سے روایاتِ کثیرہ میں اس کا ذکر ہونا چاہیے تھا جب کہ متداول اور معروف کتبِ حدیث اس کے ذکر سے خالی ہیں ۔ (احسن الفتاوی: ۹/۸۸) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.