سلام کرتے وقت جھکنے کا حکم:

4 min readFatwa Vol 7 #169Urdu
Vol. 7باب (٦): سلام، تقبیل، مصافحہ اور معانقہ کے احکام

Question

ایک شخص وکیل ہے جب وہ اپنی ملازمت پر جاتا ہے تو پہلے جج کے سامنے جھک کر سلام کرنا پڑتا ہے کیا اس طرح جھک کر سلام کرنے کی گنجائش ہے یا نہیں؟ نیز ایک شخص ورزش کے لیے جاتا ہے، ورزش کے بعد استاذ کے سامنے جھکنا لازم ہوتا ہے، تو کیا اس شخص کے لیے استاذ کو جھک کر سلام کرنے کی اجازت ہو گی یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔

Answer

بصورتِ مسئولہ جھک کر سلام کرنا مکروہ ہے اگر صرف سر جھکائے تو کراہت کم ہو گی اور اگر رکوع کی طرح کرتا ہو تو یہ ناجائز ہے ۔ ملاحظہ ہو حدیث شریف میں ہے:

عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال: قال رجل يا رسول الله! الرجل منا يلقي أخاه أو صديقه أينحني له؟ قال: لا، قال: أفيلتزمه ويقبله؟ قال: لا، قال: أفيأخذ بيده ويصافحه؟ قال: نعم قال أبو عيسى هذا حديث حسن. (رواه الترمذي، رقم: ۲۷۲۸).

ملا علی قاری رحمه الله مرقات میں فرماتے ہیں:

قوله: أينحني له، من الانحناء وهو إمالة الرأس والظهر تواضعاً وخدمة قال: لا، أي فإنه في معني الركوع وهو كالسجود من عبادة الله سبحانه. (مرقاة المفاتيح: ۹/۷٦، باب المصافحة، إمدادية، ملتان).

دلیل الفالحین میں ابن علان شافعی فرماتے ہیں:

ومن البدع المحرمة الانحناء عند اللقاء بهيئة الركوع، قال ابن الصلاح: يحرم السجود بين يدي المخلوق على وجه التعظيم وإن قصد بسجوده الله تعالى. (دليل الفالحين: ۳/۳۱۸، باب استحباب المصافحة، ط: دار الحديث القاهرة).

فتاوی الشامی میں ہے:

وفي المحيط: أنه يكره الانحناء للسلطان وغيره. (فتاوى الشامي: ٦/۳۸۳، سعيد).
وفي الطحطاوي على الدر المختار: عن انس رضي الله عنه أنه قال: قلنا لرسول الله ﷺ أينحني بعضنا لبعض قال: لا

قال العلامة السيد أحمد الطحطاوي رحمه الله: وأخذ من الحديث كراهة الانحناء عند السلام. (حاشية الطحطاوي على الدر المختار: ٤/۱۹۰).

فتاوی ہندیہ میں ہے:

الانحناء للسلطان أو لغيره مكروه لأنه يشبه فعل المجوس كذا في جواهر الأخلاطي ويكره الانحناء عند التحية وبه ورد النهي كذا في التمرتاشي. (الفتاوى الهندية: ۵/۳٦۹).
(وكذا في المحيط البرهاني: ۵/۲۷۸، دار إحياء التراث، ومجمع الأنهر في شرح ملتقي الأبحر: ٤/۲۰٦، دار الكتب العلمية، والموسوعة الفقهية الكويتية: ٦/۳۲۳، وزارة الاوقاف، الكويت، ونصاب الاحتساب، ص۳۱۷، الباب الثامن والأربعون في الاحتساب على المفرط في التواضع للناس، وحاشية الشرنبلالية على الدرر: ۱/۳۱۸).

امداد الاحکام میں ہے کہ رکوع کی طرح جھک کر سلام کرنا بدعت اور گناہ ہے، سلام میں جھکنا نہیں چاہیے ۔ (امداد الاحکام:
٤
/
٤٦۷
) ۔
آپ کے مسائل اور ان کا حل میں مرقوم ہے:
آپ کی ٹریننگ کا یہ اصول کہ سینٹر میں داخل ہوتے وقت یا باہر سے آنے والے اساتذہ وغیرہ کے سامنے رکوع کی طرح جھکنا پڑتا ہے، شرعی نقطہ نظر سے صحیح نہیں ہے، نبی کریم ﷺ نے سلام کرتے وقت جھکنے کی ممانعت فرمائی ہے، چہ جائیکہ مستقل طور پر اساتذہ کی تعظیم کے لیے ان کے سامنے جھکنا اور رکوع کرنا جائز ہو، حدیث شریف میں ہے، جس کا مفہوم ہے کہ حضرت انس
رضي الله عنه
سے مروی ہے کہ: ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے دریافت کیا کہ جب کوئی شخص اپنے بھائی یا دوست سے ملے تو اس کے سامنے جھکنا جائز ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں ۔ (مشکوۃ شریف:
٤۰۱
، بروایتِ ترمذی) ۔
مجوسیوں کے یہاں یہی طریقہ تھا کہ وہ بادشاہوں، امیروں اور افسروں کے سامنے جھکتے تھے، اسلام میں اس فعل کو ناجائز قرار دیا گیا ۔ ٹریننگ کا مذکورہ اصول اسلامی احکام کے منافی ہے، لہذا ذمہ دار حضرات کو چاہیے کہ فوراً اس قانون کو ختم کریں، اگر وہ اسے ختم نہیں کرتے تو طلباء کے لیے لازمی ہے کہ وہ اس سے انکار کریں، اس لیے کہ خدا کی ناراضگی میں مخلوق کی اطاعت جائز نہیں ۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل:
۸
/
۱۵٦
، طبع جدید) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.