مسجد میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 7 #168Urdu
Vol. 7باب (٦): سلام، تقبیل، مصافحہ اور معانقہ کے احکام

Question

جب لوگ نماز سے پہلے مسجد میں داخل ہوتے ہیں تو بعض لوگ سلام کرتے ہیں اور بعض لوگ نہیں کرتے، کیا سلام کرنا چاہیے یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔

Answer

اگر مسجد میں مصلی حضرات ذکر و تلاوت میں مشغول ہوں تو سلام نہ کرے اور اگر نماز کے انتظار میں بیٹھے ہوں تو پھر بھی سلام نہ کرنا بہتر ہے، ہاں اگر نماز ہو چکی ہو یا لوگ بات چیت میں مشغول ہوں تو سلام کرنا چاہیے ۔ باقی منتظر مصلی کے حکم میں ہے یہ صرف ثواب میں ہے تمام احکام میں نہیں ۔
ملاحظہ فرمائیں، عالمگیری میں ہے:

السلام تحية الزائرين والذين جلسوا في المسجد للقراءة والتسبيح أو لانتظار الصلاة ما جلسوا فيه لدخول الزائرين عليهم، فليس هذا أوان السلام، فلا يسلم عليهم. (الفتاوى الهندية: ۵/۳۲۵، الباب السابع في السلام، وكذا في حاشية الطحطاوي على الدر المختار: ٤/۲۰٦).
وفي الشامية: قال: وإذا جلس القاضي ناحية من المسجد للحكم لا يسلم على الخصوم، ولا يسلمون عليه، لأنه جلس للحكم والسلام تحية الزائرين. (فتاوى الشامي: ٦/٤۱۵، كتاب الحظر والإباحة، سعيد).

فتاوی سراجیہ میں ہے:

إذا دخل المسجد بعضهم في غير الصلاة يسلم قال السيد الإمام أبو القاسم رحمه الله ولترك السلام لا يكون تاركاً للسنة أشار إليه في أدب القاضي. (الفتاوى السراجية: ص ۲۸۳، وكذا في فتاوى الشامي: ٦/٤۱۳، كتاب الحظر والإباحة، سعيد).

علامہ شامی رحمه الله "
المواضع التي لا يجب فيها رد السلام"
کے تحت فرماتے ہیں:

صرح الفقهاء بعدم وجوب الرد في بعض المواضع:

والجالسين في المسجد لتسبيح أو قراءة أو ذكر حال التذكير. (فتاوى الشامي: ۱/٦۱۸، باب ما يفسد الصلاة، سعيد).

کتاب الفتاوی میں ہے:
مسجد میں داخل ہوتے وقت سلام کرنا یا مسجد میں بیٹھے ہوے لوگوں کا آنے والوں کو سلام کرنا درست ہے، البتہ اتنی آواز سے نہ کیا جائے کہ اگر کوئی شخص نماز میں ہو تو اسے خلل ہو جائے ۔ (کتاب الفتاوی: ٤/۲۵٤، و فتاوی رحیمیہ: ۵/۱۹۹، ط: دیوبند) ۔
لہذا سلام کرنے والے اور نہ کرنے والے دونوں میں سے کسی پر بھی ملامت نہیں کرنا چاہیے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.