صرف دخولِ مسجد یا تلاوت کے لیے تیمم کرنے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 1 #267Urdu
Vol. 1كتاب الطهارةباب (۳): تیمم کا بیان

Question

اگر کوئی شخص مسجد میں داخل ہونے یا قرآن کریم کی تلاوت کے لیے پانی کی موجودگی میں تیمم کرے تو یہ درست ہے یا نہیں؟

Answer

مسجد میں داخل ہونے یا قرآن کریم کی تلاوت کے لیے پانی کی موجودگی میں تیمم کرنا درست ہے ۔
طحطاوی علی الدر میں ہے:

(قوله وكذا لكل ما لا تشرط له الطهارة) أي فإنه يجوز له التيمم مع وجود الماء (قوله وجاز لدخول مسجد) أي جاز التيمم لمحدث حدثاً أصغر أراد دخول مسجد. (حاشية الطحطاوي على الدر ۱/۱۲۹)

البحر الرائق میں ہے:

أن ما ليست الطهارة شرطاً في فعله وحله فإنه يجوز له التيمم مع وجود الماء كدخول المسجد للمحدث. (البحر الرائق: ۱/۱۵۱).

شامی میں ہے:

يجوز لكل ما لا يشترط الطهارة له ولو مع وجود الماء وأما ما تشترط له فيشرط فقد الماء كتيمم لمس مصحف فلا يجوز لواجد الماء أي فلا يجوز التيمم لمس مصحف سواء كان عن حدث أوعن جنابة وأما للقراءة فإن كان محدثاً فكالأول أي كالذي لا تشترط له الطهارة فيتيمم له مع وجود الماء، أو جنباً فكالثاني وهو ما تشترط له الطهارة. (فتاوى الشامي: ۱/۲٤۵، سعيد).

خلاصہ یہ ہے کہ حدثِ اصغر کی حالت میں ہو تو مسجد میں داخل ہونے کے لیے تیمم جائز ہے پانی کی موجودگی میں نیز قرآن کریم کی تلاوت کے لیے بھی تیمم جائز ہے جبکہ زبانی پڑھنا ہو اور حدثِ اصغر کی حالت میں ہو، لیکن قرآن کریم چھونے کے لیے تیمم جائز نہیں پانی کی موجودگی میں ۔

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.