حدیث پڑھنے کے لیے تیمم کرنے کا حکم:

4 min readFatwa Vol 1 #274Urdu
Vol. 1كتاب الطهارةباب (۳): تیمم کا بیان

Question

اگر ایک طالبِ علم پانی کی موجودگی میں حدیث پڑھنے کے لیے تیمم کرے تو یہ درست ہے یا نہیں؟ کیا وضو کے قائم مقام ہوگا یا نہیں؟

Answer

مذکورہ بالا صورت کے بارے میں علامہ ابن نجیم مصری رحمہ اللہ کی عبارت سے جواز مترشح ہوتا ہے، لیکن علامہ شامی رحمہ اللہ نے اس کا تعاقب کیا ہے، البتہ حضرت علامہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ نے صاحبِ بحر کی عبارت کو ترجیح دی ہے، بنا بریں صورتِ مسئولہ میں تیمم کرنا درست ہے خصوصاً جب کہ درسِ حدیث کے فوت ہونے کا اندیشہ ہو ۔
البحر الرائق میں ہے:

أن ما ليست الطهارة شرطاً في فعله وحله فإنه يجوز له التيمم مع وجود الماء كدخول المسجد للمحدث. (البحر الرائق: ۱/۱۵۱).

علامہ شامی رحمہ اللہ نے رد المحتار میں لمبی بحث فرمائی ہے اور صاحبِ بحر کے قول کو رد کیا ہے ۔ مختصر حسبِ ذیل ملاحظہ ہو:

أن التيمم لما لم تشترط له الطهارة غير معتبر أصلاً مع وجود الماء إلا إذا كان مما يخاف فوته لا إلى بدل، فلم تيمم المحدث للنوم أو لدخول المسجد مع قدرته على الماء فهو لغو، بخلاف تيممه لرد السلام مثلاً لأنه يخاف فوته لأنه على الفور ولذا فعله ﷺ، وهذا الذي ينبغي التعويل عليه والحاصل أن ما بحثته في البحر من صحة التيمم لهذه الأشياء مع وجود الماء لا بدلها من دليل، وليس في شيء مما ذكره الشارح ما يدل عليها، بل فيه ما يدل على خلافها كما علمت. (فتاوى الشامي: ۱/۲٤٤، سعيد).

علامہ انور شاہ صاحب رحمہ اللہ نے صاحبِ بحر کے قول کو ترجیح دی ہے ملاحظہ ہو:

والحل أن التيمم للأشياء التي لا تحتاج إلى الطهارة صحيح حال وجدان الماء أيضاً عند صاحب البحر وإن رد عليه الشامي والصواب عندي ما اختاره ابن نجيم صاحب البحر. (فيض الباري: ۱/٤۰۳، كتاب التيمم).

حدیث شریف میں ہے:

عن ابن عمر رضي الله عنه قال: أقبل رسول الله ﷺ من الغائط فلقيه رجل عند بئر جمل فسلم عليه فلم يرد عليه رسول الله ﷺ حتى أقبل على الحائط فوضع يده على الحائط، ثم مسح وجهه ويديه، ثم رد رسول الله ﷺ على الرجل السلام. (رواه أبو داود، رقم ۳۳۱، وابن حبان في صحيحه، رقم ۱۳۱٦، وقال شعيب الأرناؤوط: إسناده صحيح).

سلام کا جواب دینے کے لیے طہارت شرط نہیں ہے لیکن آنحضرت ﷺ نے تیمم فرما کر سلام کا جواب دیا اگر چہ محدثین فرماتے ہیں کہ ابتدائے اسلام میں سلام کا جواب دینے کے لیے طہارت شرط تھی بعد میں وجوب منسوخ ہو گیا لیکن شاہ صاحب رحمہ اللہ نے فرمایا کہ مستحب کہنے میں کوئی حرج نہیں ۔
الغرض اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جن چیزوں کے لیے طہارت شرط نہیں ہے ان کے لیے پانی کی موجودگی میں تیمم کرنے کی گنجائش ہے، البتہ علامہ شامی رحمہ اللہ نے اس حدیث سے یہ مسئلہ اخذ کیا ہے کہ پانی کی موجودگی میں تیمم صرف اس عمل کے لیے درست ہے جو فوت ہو جاتا ہو اور اس کا کوئی نائب بھی نہ ہو جیسے نمازِ جنازہ وغیرہ، اور سلام کا جواب اسی قبیل سے ہے، تو اس کا جواب یہ ہے مسئلہ مذکورہ بالا بھی اسی قبیل سے ہے، یعنی درسِ حدیث بھی فوت ہونے والا ہے اور کوئی بدل بھی نہیں ہے ۔
مزید براں حضرت جابر رضي اللہ عنہ کی حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ سلام کا جواب جلدی فوت ہونے کے قبیل سے نہیں ہے، کیونکہ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے تین مرتبہ حضور ﷺ کو سلام کیا آپ نے جواب نہیں دیا آپ تیزی سے حجرۂ شریفہ میں تشریف لے گئے اور وضو فرما کر باہر تشریف لائے اور تین مرتبہ سلام کا جواب مرحمت فرمایا ۔ (
رواه أحمد بن حنبل رحمه الله في مسنده).

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.