پانی کے وعدہ کے باوجود تیمم سے پڑھی گئی نماز کا حکم:

2 min readFatwa Vol 1 #268Urdu
Vol. 1كتاب الطهارةباب (۳): تیمم کا بیان

Question

اگر کسی آدمی کو یقین ہو کہ پانی وقت میں ملے گا یا کسی نے پانی دینے کا وعدہ کیا ہو تو اس سے پہلے پانی سے دوری کی وجہ سے تیمم سے نماز جائز ہے یا نہیں؟ اور اگر پڑھ لی ہو تو واجب الاعادہ ہو گی یا نہیں؟

Answer

اگر کسی کو یقین ہو کہ پانی وقت میں مل جائے گا تو اس کے لیے مستحب یہ ہے کہ وہ نماز کو آخر وقت تک مؤخر کرے، لیکن اس نے نماز کو اخیر وقت تک مؤخر نہیں کیا بلکہ پہلے تیمم کر کے نماز پڑھ لی تو نماز ہو جائے گی، لیکن شرط یہ ہے کہ مصلی اور پانی کے درمیاں ایک میل کا فاصلہ ہو اگر ایک میل کا فاصلہ نہ ہو تو نماز کو مؤخر کرنا ضروری ہے ۔
الدر المختار میں ہے:

(وندب لراجيه) رجاء ً قوياً (آخر الوقت) المستحب، ولو لم يؤخر وتيمم وصلي جاز إن كان بينه وبين الماء ميل والا لا.

رد المحتار میں ہے:

(رجائً قوياً) المراد به غلبة الظن ومثله التيقن كما في الخلاصة والا فلا يؤخر لان فائدة الانتظار اداء الصلاة بأكمل الطهارتين. (الدر المختار مع رد المحتار: ۱/۲٤۹، سعيد).
وفي شرح النقاية: لكن لا يبالغ في التأخير لئلا تقع الصلاة في وقت الكراهة. (شرح النقاية: ۱/۱۱۷).

اسی طرح اگر کسی نے پانی کا وعدہ کیا ہو تو بھی انتظار کرنا لازم ہے، البتہ شرط یہ ہے کہ پانی ایک میل سے زیادہ فاصلہ پر نہ ہو اور اگر وعدہ کے باوجود بغیر انتظار کیے نماز پڑھ لی تو یہ نماز واجب الاعادہ ہے ۔
مراقی الفلاح میں ہے:

(ويجب) أي يلزم (التأخير بالوعد بالماء ولو خاف القضاء) اتفاقاً إذا كان الماء موجوداً أو قريباً إذ لا شك في جواز التيمم ومنع التأخير لخروج الوقت مع بعده ميلاً. (مراقي الفلاح مع حاشية الطحطاوي، ص ۱۲۳، قديمي).

حاشیۃ الطحطاوی میں ہے:

(أي يلزم) فالوجوب بمعنى الافتراض كما في الذي بعده (إذا كان الماء موجوداً) أي عند الواعد أو قريباً منه دون ميل أما إذا لم يوجد عنده أو كان بعيداً منه ميلاً فأكثر فلا يجب التأخير لان الشارع أباح له التيمم حلبي. (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح ص ۱۲۳، قديمي).

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.