وضو پر قدرت نہ رکھنے والے کے لیے تیمم کرنے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 1 #269Urdu
Vol. 1كتاب الطهارةباب (۳): تیمم کا بیان

Question

اگر کوئی شخص وضو پر قدرت نہیں رکھتا اور اس کی بیوی یا خادم موجود ہے جو اسے وضو کرا سکے تو کیا اس پر وضو فرض ہے یا تیمم بھی کر سکتا ہے اور اگر تیمم کر کے نماز پڑھ لی تو نماز ہو جائے گی یا نہیں؟

Answer

اگر اس کی بیوی یا خادم موجود ہے جو اسے وضو کرا سکتے ہیں تو اس پر وضو فرض ہے، چنانچہ اگر اس صورت میں تیمم کر کے نماز پڑھ لی تو نماز نہیں ہو گی ۔
البحر الرائق میں ہے:

وإن وجد خادماً كعبده وولده وأجيره لا يجزيه التيمم اتفاقاً كما نقله في المحيط وإن وجد غير خادمه من لو استعان به أعانه ولو زوجته فظاهر المذهب أنه لا يتيمم من غير خلاف بين أبي حنيفة وصاحبيه. (البحر الرائق: ۱/ ۱٤۰، كوئته).

فتح القدیر میں ہے:

فإن وجد خادماً له أو ما يستأجر به أجيراً أو عنده من لو استعان به أعانه فعلي ظاهر المذهب لا يتيمم لأنه قادر. (فتح القدير: ۱/۱۲۳، دار الفكر، وكذا في الفتاوى الهندية: ۱/۲۸).

فتاوی شامی میں ہے:

لكن قدمنا أن ظاهر المذهب أنه لا يجوز له التيمم إن كان لو استعان بالزوجة تعينه وإن لم يكن ذلك واجباً عليها. (فتاوى الشامي: ۱/۲۳٤، سعيد).

امداد الاحکام میں ہے:
اور وضو اور غسل کی جگہ تیمم کر لیا کرے بشرطیکہ سائل صاحبِ اولاد و صاحبِ زوجہ نہ ہو اور خدمت کے لیے نوکر رکھنے پر قادر نہ ہو یا صاحبِ اولاد و زوجہ ہو اور وہ اس کو وضو اور استنجا کرانے پر راضی نہ ہو اور اگر بیوی اس پر راضی ہو کہ وضو اور استنجا کرائے تو پھر اس کو تیمم جائز نہیں ۔ (امداد الاحکام:
۱
/
۳۷۵
) ۔

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.