مسجد میں جنابت لا حق ہو پر تیمم کا حکم:

1 min readFatwa Vol 1 #266Urdu
Vol. 1كتاب الطهارةباب (۳): تیمم کا بیان

Question

اگر کسی کو مسجد میں جنابت لا حق ہو گئی تو بغیر تیمم کے باہر نکلے یا تیمم کرے اور کیا پانی کی موجودگی میں تیمم کا فائدہ ہے یا نہیں؟

Answer

ایسا شخص مسجد سے نکلنے کے لیے تیمم کرے گا اور تیمم ضروری ہے بلکہ اسے فی الفور تیمم کر کے مسجد سے نکلنا چاہیے، ہاں اگر کوئی خوف ہو تو تیمم کر کے سو سکتا ہے ۔ ملاحظہ ہو:

ولوكان نائماً فيه (أي المسجد) فاحتلم والماء خارجه وخشي من الخروج يتيمم وينام فيه إلى أن يمكنه الخروج، قال في المنية: وإن احتلم في المسجد يتيمم للخروج إذا لم يخف وإن خاف يجلس مع التيمم ولا يصلي ولا يقرأ. (فتاوى الشامي: ۱/ ۲٤۳).

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.