اشرف نام رکھنے کا حکم:
Question
مجھ سے ایک آدمی نے کہا کہ اشرف نام اچھا نہیں کیوں کہ کعب کے باپ یہودی کا نام ہے اس لیے اشرف علی نام نہ رکھوں گا، اس کو کیا جواب دینا چاہیے؟
Answer
اشرف نام اچھا ہے اس کا مطلب ہے شرافت والا بلند مرتبہ والا وغیرہ، لہذا اس نام کے رکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے، اور یہ بات کہ یہودی کا نام ہے تو اس زمانہ میں یہود و نصاری عربی نام رکھتے تھے اور دونوں کے نام اکثر مسلمانوں کی طرح ہوتے تھے، خود کعب بن اشرف کا نام کعب صحابہ کا نام بھی تھا کیونکہ اس کے معنی درست ہے اسی طرح اشرف کے معنی بھی اچھے ہیں، اور ہمارے اکابر میں سے حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمه الله کا نام ہے اور اس مناسبت سے یہ نام رکھا جاتا ہے ۔
ملاحظہ ہو تاج العروس میں ہے:
الشرف: علو الحسب قاله ابن دريد
وأشرف: عالٍ، وهو الذي فيه ارتفاع حسن. (تاج العروس: ۲۳/٤۹۳). (وكذا في لسان العرب: ۹/۱٦۹، والقاموس الوحيد: ۱/۸۵۸).
الإصابة
میں ہے:
أشرف: أحد الثمانية الذين قدموا من رهبان الحبشة. تقدم في أبرهة.
أشرف غير منسوب، ذكره أبو إسحاق بن ياسين فيمن قدم من الصحابة هراة، استدركه أبو موسي. (الإصابة: ۱/۲۳۹). وينظر: (أسد الغابة: ۱/٤٤، ط: بيروت، والجامع لما في المصفات الجوامع من اسماء الصحابة الأعلام أولي الفضل والأحلام للحافظ أبي موسي: ۱/۲۰۰، وسير اعلام النبلاء: ۲۲/۲۲. ۱۲۷).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.