تیراکی کا ثبوت اور اس کا حکم:
Question
جو لوگ سمندر کے کنارے رہتے ہیں اور تیرنے کا شوق رکھتے ہیں وہ یہ پوچھتے ہیں کہ کیا رسول اللہ ﷺ سے اپنی حیاتِ طیبہ میں تیرنا ثابت ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔
Answer
سباحت اور تیراکی کے بارے میں متعدد قولی روایات میں آپ ﷺ نے حکم فرمایا ہے اور اس کو پسند فرمایا ہے، نیز آنحضرت ﷺ نے خود بنفس نفیس مدینہ منورہ میں ایک تالاب میں تیراکی سیکھی ہے، بنا بریں تیراکی مستحب اور پسندیدہ عمل ہے اور اس میں جسم کی ورزش بھی ہے اور بوقتِ ضرورت دوسروں کی جان بچانے میں اس سے کام لیا جا سکتا ہے ۔
ملاحظہ ہو حدیث شریف میں ہے:
أخرج الإمام البيهقي في شعب الإيمان (۸۲۹۷) عن ابن عمر رضي الله عنه، قال: قال رسول الله ﷺ: علموا أبناء كم السباحة والرمي، والمرأة المغزل. وقال: عبيد العطار منكر الحديث.
وعن عطاء بن أبي رباح قال: رأيت جابر بن عبد الله وجابر بن عبيد الله الأنصاري يرتميان فمل أحدهما فجلس فقال له الآخر: كسلت سمعت رسول الله ﷺ يقول: كل شيء ليس من ذكر الله عزوجل فهو لهو أو سهو إلا أربع خصال: مشي الرجل بين الغرضين وتأديبه فرسه وملاعبته أهله وتعليم السباحة. رواه الطبراني في الأوسط والكبير والبزار ورجال الطبراني رجال الصحيح خلا عبد الوهاب بن بخت وهو ثقة. (مجمع الزوائد: باب ما جاء في القسي والرماح والسيوف).
وأيضاً أخرجه النسائي الكبري (۵/۳۰۲/۸۸۹۰)، وقال المنذري (۲/۱۸۰) بإسناد جيد.
وفي رواية: علموا بنيكم السباحة والرمي ولنعم لهو المؤمنة مغزلها وإذا دعاك أبوك وأمك فأجب أمك. ابن مندة في المعرفة والديلمي من حديث بكر بن عبد الله بن الربيع الأنصاري به مرفوعاً وسنده ضعيف لكن له شواهد. (المقاصد الحسنة، ص ۲۹۵، رقم: ۷۰۸).
وقال الإمام السيوطي رحمه الله في جامع الأحاديث: أورده الذهبي في الميزان (۳/۳۲٤، ترجمة: ۳۵٤۲)، وابن حجر في اللسان (۳/۱۱۲، ترجمة: ۳٦۸) كلاهما في ترجمة سليم بن عمرو الأنصاري وقالا: روي عنه على بن عياش خبراً باطلاً، ثم ذكرا الحديث. (جامع الأحاديث: ۱٤/۲۲۹).
وعن عبد الكريم بن أبي المخارق أن زياد بن جارية أخبر عبد الملك أن عمر بن الخطاب رضي الله عنه كتب إلى أمراء الشام أن يتعلموا الغرض ويمشوا بين الغرضين حفاة وعلموا صبيانكم الكتابة والسباحة
الخ. (مصنف عبد الرزاق: ۹/۱۹/۱٦۱۹۸).
وعن أبي أمامة بن سهل قال: كتب عمر رضي الله عنه إلى أبي عبيدة بن الجراح رضي الله عنه أن علموا غلمانكم العوم (السباحة) ومقاتلكم الرمي
الخ. (مسند أحمد: ۱/٤۰۹/۳۲۳).
قال الشيخ شعيب الأرناؤوط: إسناده حسن.
وللمزيد راجع: (فيض القدير: ٤/۳۲۸، والمقاصد الحسنة، ص ۲۹۵، والشذرة في الأحاديث المشتهرة: ۱/۲۹۷، وكشف الخفاء: ۲/٦۸).
مذکورہ بالا روایات سے پتا چلتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے تیراکی کی ترغیب دی، اور حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالی عنہ نے بھی اپنے عمال کو خط لکھ کر خصوصی ترغیب دی تھی، لہذا ان روایات سے تیراکی کا استحباب ثابت ہوتا ہے، اگر چہ ان میں سے بعض روایات ضعیف ہیں ۔
آپ ﷺ سے تیراکی کا ثبوت:
قال ابن سعد في الطبقات الكبري (۱/۱۱٦): أخبرنا محمد بن عمر بن واقد الأسلمي
عن ابن عباس رضي الله عنه وغيره قالوا: كان رسول الله ﷺ مع أمه آمنة بنت وهب فلما بلغ ست سنين خرجت به إلى أخواله بني عدي بن النجار بالمدينة تزورهم به
فكان رسول الله ﷺ يذكر أموراً كانت في مقامه ذلك لما نظر إلى أطم بني عدي بن النجار عرفه
ونظر إلى الدار فقال: ههنا نزلت بي أمي وفي هذه الدار قبر أبي عبد الله بن عبد المطلب وأحسنت العوم في بشر بني عدي بن النجار.
(وكذا في سبل الهدي والرشاد: ۲/۱۲۰، والسيرة الحلبية: ۱/۵۰، والخصائص الكبري: ۱/۱۳٤، وامتاع الأسماع بما للنبي من الاحوال والأموال والحفدة والمتاع: ۸/۱٤۳، ط: بيروت، والمختصر الكبير في سيرة الرسول، ص ۱۰، ونهاية الأرب في فنون الادب: ۱٦/٦۲، ط: بيروت).
علامہ شبلی نعمانی رحمه الله لکھتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کو قیامِ مدینہ کی بہت ساری باتیں یاد رہ گئی تھیں جب آپ ﷺ قیامِ مدینہ کے زمانہ میں ایک دفعہ بنو عدی کے منازل پر گزرے تو فرمایا کہ اسی مکان میں میری والدہ ٹھہری تھیں یہی وہ تالاب ہے جس میں میں نے تیرنا سیکھا تھا ۔ (سیرۃ النبی: ۱/۱۱۱) ۔
اس روایت کا بنیادی راوی محمد بن عمر واقدی ہے اور واقدی پر بہت کچھ کلام ہے، مختصر اور ملخص حضرت مولانا ادریس صاحب کاندھلوی رحمه الله نے سیرتِ مصطفی میں بیان کیا ہے، اس کا خلاصہ ملاحظہ کیجیے:
خلاصہ کلام یہ ہے کہ واقدی کے بارے میں محقق یا راجح یا اقرب الی الصواب یہ ہے کہ واقدی ضعیف ہے دروغ گو اور افسانہ ساز نہیں، واقدی کی روایت کا وہی حکم ہے جو ضعیف راوی کی روایت کا حکم ہے یعنی جب تک کوئی حدیث صحیح اس ضعیف حدیث کے معارض نہ ہو اس وقت تک اس ضعیف حدیث کو نہیں چھوڑا جائے گا، خصوصاً جب کہ وہ ضعیف حدیث متعدد طرق اور مختلف اسانید سے مروی ہو، امام اعظم رحمه الله سے بدرجہ تواتر منقول ہے کہ ضعیف حدیث میرے نزدیک رائے رجال سے کہیں زیادہ محبوب ہے ۔ (سیرتِ مصطفی: ۱/۱۰۲) ۔
خلاصہ یہ ہے کہ سیرت اور مغازی میں واقدی کی روایت کو نقل کر سکتے ہیں البتہ جہاں صحابہ کرام کی سیرت داغدار ہوتی ہو وہاں واقدی کی روایت قابل اعتبار نہ ہو گی ۔
واقدی کے بارے میں مفصل کلام اسمائے رجال کی کتابوں میں ملاحظہ کیجیے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.