کھیلوں کو ٹی وی پر دیکھنے کا حکم:
Question
آج کل کرکٹ /فٹ بال عالمی ہو چکا ہے، ان کھیلوں کو ٹی وی پر دیکھنا کیسا ہے اور اس میں اپنی مختار جماعت کی حمایت کرنا کیسا ہے؟ بینوا توجروا ۔
Answer
بصورتِ مسئولہ فی زماننا مروجہ عالمی کھیلوں میں درجِ ذیل خرابیاں اور مفاسد کے پائے جانے کی وجہ سے ان کا دیکھنا دکھانا سب ناجائز ہے ۔ چند مفاسد و خرابیاں ملاحظہ کیجیے:
(۱) ان کھیلوں کو بذاتِ خود مقصود سمجھا جانے لگا ہے ۔
(۲) ان کھیلوں اور کھلاڑیوں سے دلچسپی رکھنے والوں کا انہماک اس قدر بڑھ گیا ہے کہ ضروری کاموں اور فرائض اور ادائے حقوق میں خلل آنے لگا ہے ۔
(۳) بالعموم ان کھیلوں میں بہت وقت ضائع ہو رہا ہے، جمعہ کا مبارک دن بھی کھیل کی نظر ہو رہا ہے ۔
(٤) کھلاڑیوں کو قومی اور ملی ہیرو بنا کر پیش کیا جا رہا ہے کہ نئی نسل، حضور کی سیرت، صحابہ، اولیاء، علماء کو اپنا نمونہ اور اسوہ بنانے کے بجائے ان فاسق فاجر کھلاڑیوں کو اپنا آئیڈیل بنا رہے ہیں ۔ اسلامی تہذیب مٹانے کے لیے مغربی تہذیب کا یہ کامیاب ہتھیار اور زہر آلود حلوہ ہے ۔
(۵) بعض کھیلوں میں کھلاڑی کا ستر نظر آتا ہے، اور کسی کے ستر کی طرف دیکھنے کی احادیث میں وعید وارد ہوئی ہے ۔
(٦) اپنی پسندیدہ جماعت کی حمایت کرنے کی وجہ سے ہار جیت پر بڑے بڑے جھگڑے جنم لیتے ہیں ۔
(۷) کھیل کے ساتھ ٹی وی پر اشتہارات اور برہنہ یا نیم برہنہ عورتوں کی تصویریں دکھائی جاتی ہیں، نیز کھیل کے میدان پر مردوں اور عورتوں کا اختلاط ہوتا ہے ۔ یہ مناظر اخلاق کو تباہ کر کے جذباتِ شہوانیہ کو برانگیختہ کرتے ہیں اور قسم قسم کے جرائم اور گناہ کا پیش خیمہ بن جاتے ہیں ۔
جامع الفتاوی میں ہے:
اسلام ایک سنجیدہ پاکیزہ مذہب ہے شریفانہ زندگی گزارنا سکھاتا ہے، کھیل تماشوں، بیہودہ مشاغل جن سے دینی دنیوی کوئی غرض صحیح اور مفید مطلب وابستہ نہیں ہوتا، صرف وقت گزاری اور وہمی وقتی، نفسانی مزہ دلچسپی ہونا، نا عاقبت اندیشی اور محض خیالی مستی اس کا حاصل ہو، ایسے کاموں کی ناپسندیدگی اور ناروا ہونا بتلاتا ہے، اس لیے ہر لہو و لعب و لغو کو ممنوع قرار دیتا ہے، کرکٹ کا کھیل دیکھنا اور سننا ایسا ہی لغو و لہو و لعب میں سے ہے، نیز دین سے آزاد لوگوں کے مجمعوں کی طرف رجحان، قلبی میلان، ان سے اختلاط دلچسپی سے ان کا ذکر، مدح و تعریف وغیرہ بہت سے امور کے باعث ممانعت میں شدت پیدا ہو جاتی ہے، اور ٹی وی، خود آلہ لہو ہے اس کا استعمال واجب الترک ہے پھر اس میں غیر محارم کی عریاں و نیم عریاں تصاویر بھی آتی ہیں جو صاحبِ صورت کی پوری حکایت ہوتی ہے، حالانکہ اجنبیہ کے تو کپڑوں کو بھی شہوت و لذت سے دیکھنا جائز نہیں اور ناجائز سے تلذذ، اضاعت وقت آخرت سے غفلت میں اضافہ، سینما، گانا وغیرہ بہت سی چیزوں کی طرف مفضی ہونا بھی اس کے ناجائز ہونے کو مؤکد و مثبت کر دیتا ہے، اس لیے قطعاً اجازت نہیں ہو سکتی ۔ (جامع الفتاوی: ۱/٦۲۰) ۔
محمود الفتاوی میں ہے:
کون نہیں جانتا کہ ہندوستان و پاکستان و دیگر ممالک میں کرکٹ کے ساتھ اور مغربی یورپ میں فٹ بال کے ساتھ، بعض دیگر یورپی ممالک میں رگبی کے ساتھ اور امریکہ میں ٹینیس کے ساتھ جو تعلق ہے وہ مذکورہ بالا نوعیت سے بھی بڑھ کر ہے جس کے نتیجہ میں صرف اتنا ہی نہیں کہ اس کی مشغولیت وقت اور مال کا ضیاع ہو بلکہ یہی تعلق بہت سی مرتبہ آپسی ٹکراؤ اور فسادات کا باعث ہوتا ہے نیز جن صورتوں میں وہ کھیل ممنوع ہوگا اس کو دیکھنا بھی ناجائز ہوگا جب میدان پر تماشا بینی کا یہ حکم ہے تو ٹی وی پر بطریق اولی ممنوع ہے کومنٹری میں بھی ضیاعِ وقت کے ساتھ دورِ حاضر کے نظریہ کھیل کی حوصلہ افزائی کے سوا کچھ نہیں اس لیے وہ بھی ممنوع ہی ہے ۔ (محمود الفتاوی: ۳/۱۲۸) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.