ٹی وی کی مرمت کی اجرت کا حکم:
Question
ایک شخص ٹی وی وغیرہ ٹھیک کرتا ہے اور اس پر اجرت لیتا ہے، تو کیا ٹی وی کی مرمت کی اجرت لینا جائز ہے یا نہیں؟ اور یہ آمدنی حلال ہو گی یا حرام؟ بینوا توجروا ۔
Answer
ٹی وی اپنی اصل کے اعتبار سے محض آلہ لہو لعب نہیں ہے بلکہ اس کو اصلاحی تعلیمی تربیتی اور سائنسی مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، بنا بریں اس کی اصلاح اور مرمت کا کام جائز ہونا چاہیے اور اجرت بھی حلال ہونی چاہیے، البتہ چونکہ فی زماننا اس کا غالب استعمال لہو لعب، فحاشی، عریانی اور بے حیائی میں ہے اس لیے اس میں ایک قسم کا تعاون علی المعصیت پایا جاتا ہے، بایں وجہ یہ کام کراہت سے خالی نہیں اور اجرت و آمدنی بھی مکروہ ہو گی اس سے اجتناب اولی اور بہتر ہے ۔
ملاحظہ ہو شامی میں ہے:
وبيع المكعب المفضض للرجل إن ليلبسه يكره، لأنه إعانة على لبس الحرام وإن كان إسكافاً أمره إنسان أن يتخذ له خفاً على زي المجوس أو الفسقة أو خياطاً أمره أن يتخذ له ثوباً على زي الفساق يكره له أن يفعل. (فتاوى الشامي: ٦/۳۹۲، كتاب الحظر والإباحة، سعيد).
جواہر الفتاوی میں حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمه الله فرماتے ہیں:
ثم السبب إن لم يكن محركاً وداعياً، بل موصولاً محضاً، وهو مع ذلك سبب قريب بحيث لا يحتاج في إقامة المعصية به إلى إحداث صنعة من الفاعل كبيع السلاح من أهل الفتنة، وبيع العصير ممن يتخذه خمراً
وإجارة البيت ممن يبيع فيه الخمر أو يتخذها كنيسة أو بيت نار وأمثالها، فكله مكروه تحريماً إن يعلم به البائع والآجر، من دون تصريح به باللسان، فإنه إن لم يعلم كان معذوراً
لكن الإعانة حقيقة هي ما قامت المعصية بعين فعل المعين ولا يتحقق إلا بنية الإعانة أو التصريح بها أو تعينها في استعمال هذا الشيء، بحيث لا يحتمل غير المعصية. (جواهر الفقه: ۲/٤۵۳، مسألة الإعانة على الحرام).
وفي الدر المختار: قلت:
إن ما قامت المعصية بعينه يكره بيعه تحريماً وإلا فتنزيهاً فليحفظ توفيقاً. (الدر المختار: ٦/۳۹۱، كتاب الحظر والإباحة، سعيد).
(كذا في فتاوى قاضيخان على هامش الهندية: ۲/۳٦٤. والفتاوى البزازية على هامش الهندية: ۵/۱۲۵).
کتاب الفتاوی میں ہے:
ٹی۔ وی سیٹ، ریڈیو اور ٹیپ ریکارڈ چونکہ جائز مقاصد کے لیے بھی استعمال کیے جاتے ہیں، اس لیے ان کی مرمت کی اجرت اور فروخت کی قیمت جائز ہے البتہ چونکہ ٹی وی کا غالب استعمال ناجائز کاموں کے لیے ہے اس لیے اس کی اجرت اور اس کی تجارت سے حاصل ہونے والا نفع کراہت سے خالی نہیں۔ (کتاب الفتاوی: ۵/۳۹٤)۔
ٹی وی سے متعلق تفصیلی فتوی کتاب البیوع میں بعنوان "ٹی وی فروخت کرنے کا حکم" گزر چکا ہے، وہاں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.