ٹائی فروخت کرنے کا حکم:
Question
ٹائی فروخت کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اور اس سے حاصل شدہ آمدنی کا کیا حکم ہے؟
Answer
ٹائی کفار و فساق کے استعمال کی چیز ہے، اس کی تجارت مکروہ ہے، اس کے فروخت کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے، البتہ حاصل شدہ آمدنی کو حرام نہیں کہا جائے گا۔
ملاحظہ ہو رد المحتار میں ہے:
وفي المحيط: لا يكره بيع الزنانير من النصراني والقلنسوة من المجوسي لأن ذلك إذلال لهما وبيع المكعب المفضض للرجل إن ليلبسه يكره، لأنه إعانة على لبس الحرام وإن كان إسكافاً أمره إنسان أن يتخذ له خفاً على زي المجوس أو الفسقة أو خياطاً أمره أن يتخذ له ثوباً على زي الفساق يكره له أن يفعل لأنه سبب التشبه بالمجوس والفسقة. (رد المحتار: ٦/۳۹۲، فصل في البيع، سعيد).
فتاوی محمودیہ میں ہے:
ٹائی ایک وقت میں نصاری کا شعار تھا، اس وقت اس کا حکم بھی سخت تھا، اب غیر نصاری بھی بکثرت استعمال کرتے ہیں، اب اس کے حکم میں تخفیف ہے، اس کو شرک یا حرام نہیں کہا جائے گا، کراہت سے اب بھی خالی نہیں، کہیں کراہت شدید ہوگی، کہیں ہلکی، جہاں اس کا استعمال عام ہو جائے وہاں اس کے منع پر زور نہیں دیا جائے گا ۔ (فتاوی محمودیہ: ۱۹/۲۸۹، مبوب و مرتب) ۔
البتہ بعض حضرات نے عیسائیوں کا مذہبی شعار بتلا کر اسے ناجائز قرار دیا ہے ۔
ملاحظہ ہو فتاوی محمودیہ کی تعلیق و حاشیہ میں مرقوم ہے:
ٹائی کا استعمال اگر چہ مسلمانوں میں بھی عام ہو گیا ہے مگر اس کے باوجود انگریزی لباس کا حصہ ہی ہے، اگر انگریزی لباس تصور نہ کیا جائے، لیکن فساق و فجار کا لباس تو بہرحال ہے، لہذا تشبہ بالفساق کی وجہ سے ممنوع قرار دیا جائے گا، دوسری بات یہ ہے کہ اہل صلاح اس لباس کو پسند بھی نہیں کرتے، کیوں کہ یہ علماء و صلحاء کے لباس کے خلاف ہے، تیسری بات یہ ہے کہ اس کے علاوہ ٹائی میں ایک اور خرابی یہ بھی ہے کہ عیسائی اس سے اپنے عقیدہ "صلیبِ عیسی علیہ السلام" یعنی حضرت عیسی علیہ السلام کے مصلوب کیے جانے کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو کہ نصِ قرآنی کے خلاف ہے، لہذا تشبہ بالکفار کے ساتھ ساتھ عیسائیوں کے مذہبی یادگار اور مذہبی شعار ہونے کی وجہ سے بھی پہننا جائز نہیں: (البتہ بعض علماء کو اس کے صلیبی نشانی اور مذہبی شعار ہونے میں کلام ہے ۔)
وعن ابن عمر رضي الله تعالى عنهما قال: قال رسول الله ﷺ: "من تشبه بقوم" أي من شبه نفسه بالكفار مثلاً في اللباس وغيره أو بالفساق أو الفجار أو بأهل التصوف والصلحاء الأبرار، "فهو منهم" في الإثم والخير، قال الطيبي رحمه الله: هذا عام في الخَلق والخُلق والشعار ولما كان الشعار أظهر في التشبه
(مرقاة المفاتيح، كتاب اللباس، ۷/۱۵۵، رشيدية).
(مستفاد از حاشیہ فتاوی محمودیہ: ۱۹/۲۸۹، مبوب و مرتب) ۔
فتاوی رحیمیہ میں ہے:
سوال: ہندوؤں کا ایک تہوار "رکھشا بندھن" آتا ہے، جس میں بہن اپنے بھائی کو راکھی باندھتی ہے تو اس تہوار کے موقعہ پر راکھی بیچنا کیسا ہے؟
راکھی بیچنا گویا کافروں کی مذہبی رسم میں تعاون کرنا ہے اس سے بچنا ہی چاہیے ۔ (فتاوی رحیمیہ: ۹/۲۰٦) ۔
فتاوی محمودیہ میں ہے:
شریعتِ اسلامیہ کے نزدیک یہ کفار کا شعار کچھ اعزاز کی چیز نہیں، بلکہ وضع کے اعتبار سے اس میں ان کی تذلیل ہے، تاہم ایسی تجارت سے اجتناب و احتیاط بہتر ہے ۔ (فتاوی محمودیہ: ۱٦/۱۳۸، مبوب و مرتب) ۔
خلاصہ یہ ہے کہ ٹائی کی تجارت کراہت سے خالی نہیں، لہذا اس سے اجتناب کرنا اولی اور بہتر ہے، تاہم اس سے حاصل شدہ آمدنی حرام نہیں ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.