مشرک کی عبادت گاہ کی اشیاء فروخت کرنے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 5 #76Urdu
Vol. 5كتاب البيوعباب (۱، ۲، ۳): جائز اور ناجائز خرید و فروخت کے احکام

Question

اگر کوئی مشرک اپنی عبادت گاہ کے لیے سامان خریدنا چاہے، تو کیا اس کے ہاتھ فروخت کرنا جائز ہے یا نہیں؟

Answer

بصورتِ مسئولہ امام ابو حنیفہ رحمه الله کے نزدیک جائز ہے البتہ صاحبین رحمه الله کے نزدیک ممنوع ہے، لہذا اجتناب اولی اور بہتر ہے، تاہم آمدنی حلال ہے ۔
در مختار میں ہے:

قلت: وقدمنا ثمة معزياً للنهر أن ما قامت المعصية بعينه
ٖ
يكره بيعه تحريماً وإلا فتنزيهاً فليحفظ توفيقاً، وجاز تعمير كنيسة

وقالا: لا ينبغي ذلك لأنه إعانة على المعصية وبه قالت الثلاثة، زيلعي. وفي الشامية: قوله وجاز تعمير كنيسة، قال في الخانية: ولو آجر نفسه ليعمل في الكنيسة ويعمرها لا بأس به لأنه لا معصية في عين العمل. (الدر المختار مع رد المحتار: ٦/۳۹۱، فصل في البيع، سعيد).

عالمگیری میں ہے:

ولو استأجر الذمي مسلماً ليبني له بيعة أو كنيسة جاز ويطيب له الأجر كذا في المحيط. (الفتاوى الهندية: ٤/٤۵۰).

امداد الفتاوی میں ہے:
سوال: کفار مشرک اگر اپنی عبادت گاہ کی تعمیر کے واسطے یا بتوں کی پرستش کے لیے کوئی چیز کسی مسلمان سے خریدیں یا کسی مسلمان کو اجرت پر رکھیں تو اس چیز کا ان کے ہاتھ فروخت کرنا یا اجرت لینا جائز ہے یا نہیں؟
الجواب: امام صاحب رحمه الله کے نزدیک جائز ہے، صاحبین رحمه الله کے نزدیک ممنوع ہے، لہذا احتیاط بہتر ہے، اور جو کوئی غریب مبتلا ہو اس پر دارو گیر نہ کرے ۔ (امداد الفتاوی: ۳/۱۱۱) ۔
حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمه الله نے جواہر الفقہ میں اعانت علی المعصیت کو تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا ہے ۔ مختصراً درج کیا جاتا ہے، ملاحظہ ہو:

ثم السبب على قسمين قريب وبعيد ثم القريب على قسمين: سبب محرك للمعصية بحيث لولاه لما أقدم الفاعل على هذه للمعصية كسب آلهة الكفار بحيث يكون سبباً مفضياً لسب الله سبحانه وتعالى ومثله نهي أمهات المؤمنين عن الخضوع في الكلام للأجانب

وسبب ليس كذلك ولكنه يعين لمريد المعصية ويوصله إلى ما يهواه كإحضار الخمر لمن يريد شربه

فالقسم الأول من السبب القريب حرام بنص القرآن

والقسم الثاني من السبب القريب أعني مالم يكن محركاً وباعثاً بل موصلاً محضاً فحرمته وإن لم تكن منصوصة ولكنه داخل فيه باشتراك العلة وهي الإفضاء إلى الشر والمعصية ولهذا أطلق الفقهاء رحمه الله عليها لفظ كراهة التحريم لا الحرمة

وأما السبب البعيد كبيع الحديد من أهل الفتنة

وبيع الآجر والحطب ممن يتخذها كنيسة أو بيعة

إذا علم فتكره تنزيهاً. (جواهر الفقه: ۲/٤٤۹. ٤۵۲، اقسام السبب وأحكامه، مكتبه دار العلوم كراچي).

خلاصہ یہ ہے کہ اسباب کی تین قسمیں ہیں اور سب ممنوع نہیں ہیں، بلکہ:
(۱) سبب قریب محرک مثلاً معبودانِ باطلہ کو برا بھلا کہنا، یہ نص قرآنی سے حرام ہے ۔
(۲) سبب قریب غیر محرک مثلاً اہل فتنہ و فساد کے ہاتھ اسلحہ فروخت کرنا ۔ یہ مکروہ تحریمی ہے ۔
(۳) سبب بعید مثلاً کفار کی عبادت گاہ کے لیے ان کے ہاتھ ملبا وغیرہ فروخت کرنا یہ مکرہ تنزیہی ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.