غیر شرعی لباس کی تجارت کا حکم:
Question
عورتوں کے غیر شرعی لباس جس میں بازو وغیرہ کھلے ہوں ان کی تجارت کا کیا حکم ہے؟
Answer
بصورتِ مسئولہ ایسے لباس کی تجارت جائز اور درست ہے، البتہ اجتناب اولی اور بہتر ہے ۔
ملاحظہ ہو رد المحتار میں ہے:
وفي المحيط: لا يكره بيع الزنانير من النصراني والقلنسوة من المجوسي لأن ذلك إذلال لهما وبيع المكعب المفضض للرجل إن ليلبسه يكره، لأنه إعانة على لبس الحرام وإن كان إسكافاً أمره إنسان أن يتخذ له خفاً على زي المجوس أو الفسقة أو خياطاً أمره أن يتخذ له ثوباً على زي الفساق يكره له أن يفعل لأنه سبب التشبه بالمجوس والفسقة. (رد المحتار: ٦/۳۹۲، فصل في البيع، سعيد).
عالمگیری میں ہے:
بيع الزنار من النصارى والقلنسوة من المجوس لا يكره. (الفتاوى الهندية: ۳/۲۱۰).
فقہی مقالات میں ہے:
اگر کوئی چیز یا لباس ایسا ہے جس کا جائز استعمال بھی ہو سکتا ہے، اور ناجائز استعمال بھی ہو سکتا ہے تو ایسے لباس اور ایسی چیز کی خرید و فروخت شرعاً جائز ہے، اب اگر کوئی اس کو خرید کر اس کا ناجائز استعمال کرتا ہے تو یہ اس کا گناہ اس خریدار پر ہوگا ۔ (فقہی مقالات: ۳/۱۰۰) ۔
فتاوی محمودیہ میں ہے:
ایسا کپڑا فروخت کرنا درست ہے تاہم ایسی تجارت سے اجتناب و احتیاط بہتر ہے ۔ (فتاوی محمودیہ: ۱٦/۱۳۸، مبوب و مرتب) ۔
محمود الفتاوی میں ہے:
سوال: اگر کوئی مسلمان درزی، ہندوؤں کے غیر شرعی کپڑے بناتا ہے تو ایسے کپڑے سینے کی اجرت لینا درست ہے یا نہیں؟
الجواب: درست ہے البتہ احتیاط اولی ہے ۔ (محمود الفتاوی: ۳/۸۲) ۔
کتاب الفتاوی میں ہے:
اس طرح کے ملبوسات کا غیر محرم کے سامنے استعمال کرنا جائز نہیں، لیکن بعض ملبوسات جن میں آستین پوری نہیں ہوتی محرم کے سامنے استعمال کرنے کی گنجائش ہے، اور شوہر کے ساتھ خلوت میں ہر طرح کا لباس استعمال کیا جا سکتا ہے، لہذا چونکہ فروخت کنندہ ایسے مقصد یا تلقین کے ساتھ نہیں فروخت کرتا کہ غیر محرموں کے سامنے بے حجابی روا رکھتے ہوے ان کا استعمال کیا جائے اور فی الجملہ بعض حالات میں خواتین کے لیے ان کے استعمال کی گنجائش ہے، اس لیے اس کا اس طرح کے ملبوسات فروخت کرنا جائز ہوگا، البتہ نا درست ارادہ سے خرید کرنے والے اور خرید کر استعمال کرنے والے گنہگار ہوں گے ۔ (کتاب الفتاوی: ۵/۲۷۱) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.