نظم کو گیت کے انداز میں پڑھنے کا حکم:

7 min readFatwa Vol 7 #262Urdu
Vol. 7باب (۸): ما يتعلق بأحكام الألعاب و اللهو واللعب

Question

کیا کسی نظم، نعت یا ترانہ کو غزل یا گیت کے انداز میں پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟ جب کہ اس میں کفار و فساق کی مشابہت پائی جاتی ہے ۔ بینوا توجروا ۔

Answer

کفار و فساق کے ساتھ تشبہ ان امور میں جو ان کی مذہبی خصوصیات اور امتیازی نشانات ہیں جائز نہیں، مثلاً: گلے میں صلیب لٹکانا، ہندوؤں کا زنار پہننا، پیشانی پر قشقہ لگانا ایسے امور ناجائز ہیں جن میں تشبہ بھی پایا جاتا ہو اور ان کی قباحت میں احادیث وارد ہوئی ہو، جیسے پتلون ٹخنوں سے نیچے لٹکانا، یا مردوں کو عورتوں کا لباس پہننا ۔
لیکن بعض امور ایسے ہوتے ہیں جن میں ایک جانب تشبہ یعنی مشابہت ہوتی ہے اور دوسری جانب کچھ دوسری مصلحت ہوتی ہے اس لیے ان کو ناجائز نہیں کہا جائے گا، اگر کوئی عاشورہ یعنی دسویں محرم کا ایک روزہ رکھیں تو وہ ناجائز نہیں، کیوں کہ روزہ رکھنے والے کا مقصد یہود کے ساتھ مشابہت نہیں بلکہ حضرت موسی علیہ السلام اور آنحضرت ﷺ کی اتباع ہے، محرم اور ربیع الاول میں وعظ و نصیحت کی مجالس قائم کرنا اہل بدعت کے ساتھ مشابہت ہے لیکن چونکہ مقصد خرافات کی تردید اور صحیح مضامین کا بیان کرنا ہے لہذا علماء نے اس کو جائز فرمایا ہے، بشرطیکہ خرافات اور قیودات سے خالی ہوں ۔
نیز فقہاء نے منطق، فلسفہ کے پڑھنے کو حرام لکھا ہے کما فی الدر المختار، لیکن اس مصلحت سے اس کو طلبہ پڑھتے ہیں تاکہ اس کی اصطلاحات سے اتنی واقفیت ہو جائے کہ کتابوں کو سمجھ سکیں اور نیز غلط مضامین کی تردید کر سکیں ۔
احادیث میں ایک پیاسہ کتے کو پانی پلانے پر اجر کا ذکر ہے، کیوں کہ یہاں مقصود کتا پالنا نہیں بلکہ ایک جاندار کی تکلیف کو دور کرنا ہے اس لیے اگر کسی گیت کے وزن پر کوئی نظم اس نیت سے پڑھی جائے کہ اس ہر دل عزیز وزن کی وجہ سے لوگ خرافات سے ہٹ کر صحیح مضامین کو بغیر مزامیر کے سن لیں گے تو اس پر ناجائز و حرام کا فتوی نہیں لگانا چاہیے ۔
کتبِ احادیث میں یہ حدیث مروی ہے کہ جب کفار نے ایک جہاد میں یہ شعر پڑھا:

إن لنا العزي ولا عزي لكم،
یعنی ہمارا عزی بت ہے تمہارا نہیں تو بالکل اس طریقہ پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا:
الله مولانا ولا مولي لكم،
کیونکہ یہاں مقصود ان کی تردید تھی، نیز کفار کے قول: "
اعل هبل اعل هبل"
کے جواب میں "
الله أعلى وأجل"
کہا گیا ۔ میرا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ گانے اور مزامیر سنے جائیں، بلکہ ان کا سننا بالکل ناجائز ہے، لیکن اگر کسی کو اتفاقاً کان میں پڑنے کی وجہ سے یا وزن مشہور ہونے کی وجہ سے وہ دھن معلوم ہو تو اس وزن اور طریقہ پر پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہونا چاہیے ہونا چاہیے، بلکہ بعض مرتبہ گیت کا وزن اتنا مشہور اور عام ہوتا ہے کہ وہ کسی گانے کا وزن نہیں سمجھا جاتا تو اس کے عام ہونے کی وجہ سے بھی گنجائش ہو گی ۔
ہمارے اکابر نے میز کرسی پر کھانے اور سائیکل کی سواری کی گنجائش اس کے عام ہونے کی وجہ سے نکالی، اور اس کو تشبہ سے یعنی مشابہت سے خارج کیا ۔
ان نظموں کو موسیقی کے وزن پر پڑھنے کے سلسلہ میں فقیہ النفس قطب زمانہ حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمه الله کا ایک فتوی ملاحظہ کیجیے:
سوال: سماع اور غنا اور راگ یہ تینوں ایک ہی چیزیں ہیں یا غیر اور یہ تینوں بلا مزامیر کے سننا جائز ہیں یا نہیں؟
جواب: ہرسہ الفاظ ایک معنی رکھتے ہیں، بلا مزامیر راگ کا سننا جائز ہے، اگر گانے والا محل فساد نہ ہو اور مضمون راگ کا خلافِ شرع نہ ہو اور موافقِ موسیقی ہونا کچھ حرج نہیں ۔ (فتاوی رشیدیہ، ص 607، مکتبہ رحمانیہ) ۔
مشابہت کے بارے میں در مختار مع الشامی میں مرقوم ہے:

فإن التشبه بهم لا يكره في كل شيء بل في المذموم وفيما يقصد به التشبه كما في البحر وفي الشامي: عن شرح الجامع الصغير لقاضيخان ما في الذخيرة قبيل كتاب التحري قال هشام: رأيت على أبي يوسف رحمه الله نعلين مخصوفين بمسامير فقلت: أتري بهذا الحديد بأساً قال: لا، قلت: سفيان وثور بن يزيد كرها ذلك لان فيه تشبهاً بالرهبان فقال كان رسول الله ﷺ يلبس النعال التي لها شعر وإنها من لباس الرهبان فقد أشار إلى أن صورة المشابهة فيما تعلق به صلاح العباد لا يضر. (الدر المختار مع فتاوى الشامي: ۱/٦۲٤، سعيد).

یعنی ہر چیز میں مشابہت ممنوع نہیں بلکہ مذموم چیزوں میں مشابہت نہیں ہونی چاہیے نیز جہاں مشابہت کا قصد ہو وہاں بھی ممنوع ہے، ہشام کہتے ہیں کہ امام ابو یوسف رحمه الله نے وہ جوتا پہنا تھا جس پر دوسرا چمڑا لگا تھا اور لوہے کی کیلیں لگی تھیں میں نے کہا سفیان اور ثور اس کو مکروہ فرماتے ہیں کیوں کہ اس میں راہبوں کے ساتھ مشابہت ہے انہوں نے کہا آنحضور ﷺ نے بالوں والا جوتا پہنا ہے حالانکہ یہ راہبوں کا جوتا تھا، تو معلوم ہوا کہ ظاہری مشابہت ممنوع نہیں ہے جس میں کوئی خاص فائدہ ہو، ہاں جس مشابہت کی ممانعت صراحۃً احادیث میں آئی ہے اس میں کسی فائدہ کو تلاش کرنا بے وقوفی ہے، کیوں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان فوائد کو لغو قرار دیا ہے لہذا وہ فوائد کالعدم یا فرضی ہیں یا ان کا ضرر ان کے فوائد پر غالب ہوگا، جیسے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
ليس منا من تشبه بالرجال من النساء ولا من تشبه بالنساء من الرجال. (أخرجه أحمد في مسنده، رقم: ٦۸۷۵).
یعنی جو مرد عورتوں کی طرح بن جائے یا عورت مردوں کی طرح بن جائے وہ ہم میں سے نہیں، ایک اور حدیث میں آیا ہے:
لعن الله الرجل يلبس لبسة المرأة والمرأة لبسة الرجل
، نیز گیت سے مشابہت ختم ہونے کے لیے میوزک کا نہ ہونا بھی کافی ہے، جیسے عاشورا کے روزہ میں ایک روزے کے بڑھانے سے مشابہت ختم ہو گئی، اسی طرح ایک چیز کم کرنے سے بھی مشابہت ختم ہو گئی ۔
خلاصہ یہ ہے کہ خاص دھنوں پر نظم پڑھنے میں فقیر کے نزدیک کوئی حرج نہیں، اگر کسی کے خیال میں درست نہ ہو تو وہ نہ سنیں لیکن دوسروں پر اپنی رائے مسلط نہ کریں ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.