دینی پروگرام کو ویڈیو میں محفوظ کرنے کا حکم:
Question
بعض مقررین جب تقریریں کرتے ہیں تو بعض لوگ ان کی ویڈیو لیتے ہیں اور اس کو انٹرنیٹ پر ڈالتے ہیں تاکہ سب اس تقریر سے استفادہ کر سکیں اور مقرر کے چہرے کو بھی دیکھ سکیں ۔ نیز بعض مرتبہ دینی کانفرنس کو بھی محفوظ کر کے اسی وقت یا بعد میں دکھایا جاتا ہے، کیا شریعتِ مطہرہ میں اس کی گنجائش ہو گی یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔
Answer
بصورتِ مسئولہ علمائے معاصرین کی آراء مختلف ہیں بعض حضرات فرماتے ہیں کہ یہ تصاویر ممنوعہ میں داخل ہیں اگر چہ باہر کاغذ پر پرنٹ نہ کیا گیا ہو، لیکن دوسرے حضرات فرماتے ہیں کہ تصویر کے حکم میں اس وقت آئے گی جب باہر نکالا جائے یعنی کاغذ پر پرنٹ کیا جائے، اس سے پہلے اس پر تصویر کا اطلاق مشکل معلوم ہوتا ہے یہ فقط حبس الظل، یا حفظ الصورۃ، یا عکس التصویر ہے ۔ ہاں کاغذ پر پرنٹ کرنے کے بعد حضرت مفتی رفیع صاحب، مولانا خالد سیف اللہ صاحب اور مفتی تقی صاحب اور دیگر علماء کے نزدیک تصویر ممنوع کے حکم میں ہے ۔
پہلے موقف کے دلائل کے لیے سہارنپور کا مفصل فتوی اور جامعہ دار العلوم یا سین القرآن کا مفصل فتوی ملاحظہ کیا جا سکتا ہے ۔ تطویل کی وجہ سے ان کے حوالہ پر اکتفا کیا جاتا ہے ۔
البتہ دوسرے موقف کے بارے میں مختصر حسبِ ذیل ملاحظہ کیجیے:
حضرت مولانا مفتی رفیع عثمانی صاحب فرماتے ہیں:
الرابع: حكم الأشكال الحيوانية الملتقطة بالكاميرا الرقمية
(Digital cameras)؛
منذ مدة طويلة قد جري بحث بين العلماء المعاصرين حول المناظر والمشاهد والأشكال
(Images)
المحفوظة بواسطة النظام الرقمي
(Digital system)،
وبالكاميرا الرقمية
(Digital cameras)
في ذاكرة الحاسوب
(Computer Memory)
أو الأقراص
(Floppy Disc)
أو الأقراص المدمجة
(Compact Disc)
أو أشرطة الفيديو
(Cassette/Video Ribbon)،
والتي تبدو وتظهر على شاشة هذه الآلات المذكورة بواسطة النظام الرقمي هل لها حكم التصوير المحرم أم لا؟ لان المسألة اجتهادية ولم تكن موجودة ولا معروفة في عهد رسول الله ﷺ ولا في زمن الصحابة رضي الله عنه والتابعين رحمه الله ولا في عصر الفقهاء السالفين رحمه الله وإنما اكتشفت مؤخراً فلذا لا يوجد صراحة حكمها في القرآن الكريم والحديث النبوي الشريف ولا في كلام الفقهاء السابقين رحمه الله بخصوص هذا النوع، نصاً، لعدم وجودها في زمانهم وإنما تكلم فيه العلماء المعاصرون واختلفوا في حكمها.
فمنهم من أدخلها في التصوير المحرم إلحاقاً بعموم مسمي التصوير الذي دلت الأدلة الصحيحة على تحريمه.
ومنهم من أخرجها من أن تكون في حكم التصوير المحرم نظراً إلى حقيقتها لأنها ذرات إلكترونية شعائية غير جوهرية بشكل نقط كثيرة لا تحصي وإشارات إشعاعية (
Electronic Signals)
تنتقل من الجهاز الرقمي
(Digital Device)
والكاميرا الرقمية إلى الشاشة والجدران والستائر وتظهر عليها بترتيب المخصوص حيث تحدث بها الأشكال المرئية على الشاشة لكن لا تستقر هذه الأشكال على الشاشة والجدران ونحوها
وأما الراجح عندنا فهو الجواز لان ما يبدو على الشاشة من مشاهد ومظاهر تحت النظام الرقمي فهو ليس بصورة حقيقة ولا عكساً ولا ظلاً. أما عدم كون هذا الشكل الذي يبدو على الشاشة ظلاً فهو واضح لان الظل تابع لصاحبه وهذا الشكل ليس كذلك.
وأما عدم كونه صورة فلأن الصورة بمعناها الحقيقي إنما توجد إذا انتقشت أو ارتسمت أو تشكلت على شيء بصفة القيام والاستقرار أما هذه الأشكال التي تبدو وتري على الشاشة ونحوها ليس لها ثبات واستقرار في شيء بل هي مشتملة على الأجزاء الإشعائية
إلى قوله
وأما المناظر والأشكال الحيوانية بالكاميرا الرقمية فإنها ليست صوراً حقيقية فلا يحرم التقاطها ولا استخدامها قبل طبعها (
Printing
) في الأوراق ونحوها إذا كانت خالية من المنكرات الشرعية نحو الخلاعة والمجون وغيرهما. (مقالة الشيخ المفتي رفيع العثماني، ۵۲، ۵۵).
مولانا خالد سیف اللہ صاحب تحریر فرماتے ہیں:
آج کل تصویر کی ایک نئی صورت الکٹرانک تصویریں کی ہے، جو اپنی مکمل صورت میں پہلے سے موجود نہیں تھی بلکہ جب بھی تحریک کی جاتی ہے اس وقت الکٹرانک ذرات حرکت میں آتے ہیں اور ایک نقش کی صورت اختیار کر لیتے ہیں ان میں ثبات اور ٹھہراؤ نہیں ہوتا ہے کیا ایسے نقوش پر تصویر کا اطلاق ہوگا؟ اس سلسلہ میں دو نقاطِ نظر پائے جاتے ہیں ایک یہ کہ یہ بھی تصویر میں شامل ہے، عام طور پر برصغیر کے علماء کا رجحان اسی طرف ہے، دوسرا نقطہ نظر اس کے خلاف ہے کہ یہ نقوش تصویر میں شامل نہیں ہے اس نقطہ نظر کے حاملین میں مولانا نظام الدین اعظمی سابق صدر مفتی دار العلوم دیوبند، مولانا محمد سالم قاسمی مہتمم دار العلوم وقف دیوبند، مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی، بانی اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا، مفتی محمد تقی عثمانی، مفتی دار العلوم کراچی اور بہت سے علماء اور عالمِ عرب کے بیشتر علماء اور اصحابِ نظر شامل ہیں ۔
جن حضرات نے ان نقوش کو تصویر مانا ہے ان کی نظر تصویر کے مقاصد پر ہے کہ جیسے تصویروں کا مقصد صورتوں کی شناخت اور اس کی مثال کا پیش کرنا ہوتا ہے یہ مقصد ان ڈیجیٹل نقوش سے بھی حاصل ہو جاتا ہے ۔ اور جن حضرات نے اسے تصویر نہیں مانا ہے ان کی نگاہ تصویر کی حقیقت پر ہے کہ تصویر ایسے نقوش کو کہتے ہیں جو ثابت اور پائیدار ہوں یہ نقوش چونکہ نا پائیدار ہیں اس لیے یہ عکس کے مماثل ہیں جس میں ٹھہراؤ نہیں ہوتا بہر حال دونوں نقاطِ نظر کے لیے شرعی بنیادیں موجود ہیں اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ یہ ایک مجتہد فیہ مسئلہ ہے ۔
۔ چونکہ ڈیجیٹل تصویروں کے سلسلہ میں علماء اور اربابِ افتاء کے درمیان اختلاف ہے اور ایک حد تک اس کی گنجائش نکلتی ہے اس لیے ایسے پروگراموں کی سی، ڈی تیار کی جا سکتی ہے جس میں بالغ اور قریب البلوغ لڑکیوں کی ایسی تصویریں نہ ہوں جن میں چہرہ یا دوسرے اعضاء نظر آتے ہوں اور یہ بھی ضروری ہے کہ انہیں کاغذ یا کپڑے پر نقش نہ کیا جائے کیوں کہ جمہور کے نزدیک تصویر کی یہ صورت ناجائز ہے ۔ (مسلمانانِ کناڈا کے بعض مسائل، از مولانا خالد سیف اللہ صاحب، ص ۷۲، ۷۳، المؤسسۃ الاسلامیۃ، تورنتو) ۔
حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب تحریر فرماتے ہیں:
تیسری قسم وہ ہے جو ویڈیو کیسٹ کے ذریعہ دکھائی جاتی ہے یعنی ایک تقریر اور اس کی تصاویر کے ذرات کو لے کر ویڈیو کیسٹ میں محفوظ کر لیا، اور پھر ان ذرات کو اسی ترتیب سے چھوڑا تو پھر وہی منظر اور تصویر نظر آنے لگی، میرے نزدیک اس کو بھی تصویر کہنا مشکل ہے اس لیے کہ جو چیز ویڈیو کیسٹ میں محفوظ ہوتی ہے وہ صورت نہیں ہوتی بلکہ وہ برقی ذرات ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ اگر ویڈیو کیسٹ کی ریل کو خورد بین لگا کر بھی دیکھا جائے تو اس میں تصویر نظر نہیں آئے گی اس لیے میرا رجحان اس طرف ہے کہ یہ تصویر کے حکم میں نہیں آتیں، لہذا اگر کوئی ایسا صحیح پروگرام پیش کیا جا رہا ہو اور وہ فی نفسہٖ جائز ہو اور ان دو ذریعوں میں سے کسی ایک کے ذریعہ پیش کیا جا رہا ہو تو اس کو دیکھنا فی نفسہٖ جائز ہوگا،
والله سبحانه أعلم إن كان صواباً فمن الله وإن كان خطأ فمني ومن الشيطان
، یہ باتیں اہل علم کے سمجھنے اور کہنے کی تو ہیں لیکن ان باتوں کو زیادہ تشہیر کرنے سے ٹی، وی کے استعمال کی ہمت افزائی لازم آئے گی اس لیے یہ باتیں عوام میں بیان کرنے کی نہیں ہیں، عوام کو تو یہی کہنا چاہیے کہ ٹی وی ناجائز ہے کیوں کہ ایسے ٹی وی کا تصور جس میں ناجائز پروگرام نہ ہو موجود ہ دور میں ناممکن ہے ۔ (تقریر ترمذی، جلد دوم، ص: ۳۵۲) ۔
خلاصہ یہ ہے کہ جب تک عریانی اور فحش کاری اور غلط چیزوں کا مظاہرہ نہ کیا جاتا ہو بلکہ حدودِ شریعت کی رعایت کرتے ہوے محض دینی پروگرام ہو تو اس کا محفوظ کرنا اور دیکھنا جائز اور درست ہے یہ تصویر کے حکم میں نہیں ہے، لیکن فی زماننا عام طور پر ان آلات کے ذریعہ مخربِ اخلاق پروگرام اور برہنہ عورتوں کی یا نیم برہنہ عورتوں کی تصویریں شائع کی جاتی ہیں اور خاص طور پر نوجوان طبقہ اس قسم کے آلات مثلاً ڈیجیٹل کیمرے والے موبائل، انٹرنیٹ وغیرہ کے غلط استعمال میں مبتلا ہے، بنا بریں ان تمام آلات سے اجتناب کرنا چاہیے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.