ویڈیو کال موبائل کا حکم:

2 min readFatwa Vol 7 #274Urdu
Vol. 7باب (۸): ما يتعلق بأحكام الألعاب و اللهو واللعب

Question

فیس تایم (face time) ویڈیو کال (video call) کا ایک پروگرام ہے جس کے ذریعہ سے آدمی ایک دوسرے کو بالمشافہہ دیکھ بات کر سکتا ہے، تو اس قسم کا پروگرام استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اسی طرح اسکائپ (skype) وغیرہ ویڈیو کال پروگرام کا کیا حکم ہے؟

Answer

بصورتِ مسئولہ ویڈیو کال ممنوعاتِ شرعیہ سے خالی ہو مثلاً غیر محرم کو دیکھنا، سامنے والے کا بے ستری میں ہونا وغیرہ، تو فی نفسہٖ اس کا استعمال جائز ہے، کیوں کہ اسکرین پر جو تصویر نظر آتی ہے وہ اصل صورت کا عکس ہے تصویر نہیں ہے ۔ لیکن آج کل یہ پروگرام زیادہ تر فضولیات اور ممنوعات پر مشتمل ہوتا ہے اس لیے اس سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔
تقریر ترمذی میں حضرت مفتی تقی صاحب فرماتے ہیں:
وجہ اس کی یہ ہے کہ تصویر وہ ہوتی ہے جس کو کسی چیز پر علی صفۃ الدوام ثابت اور مستقر کر دیا جائے، لہذا اگر وہ تصویر علی صفۃ الدوام کسی چیز پر ثابت اور مستقر نہیں ہے تو پھر وہ تصویر نہیں ہے، بلکہ وہ عکس ہے، لہذا براہِ راست دکھائی جانے والی تصویر عکس ہے، تصویر نہیں ہے، مثلاً کوئی شخص یہاں سے دو میل دور ہے اور اس کے پاس ایک شیشہ ہے اس شیشہ کے ذریعہ وہ یہاں کا منظر دیکھ رہا ہے، ظاہر ہے کہ وہ شخص دو میل دور بیٹھ کر شیشہ میں یہاں کا عکس دیکھ رہا ہے وہ تصویر نہیں دیکھ رہا ہے اس لیے کہ یہ عکس کسی جگہ پر ثابت اور مستقر علی صفۃ الدوام نہیں ہے، بالکل اسی طرح براہِ راست ٹیلی کاسٹ کرنے کی صورت میں برقی ذرات کے ذریعہ انسان کی صورت کے ذرات منتقل کیے جاتے ہیں پھر ان کو اسکرین کے ذریعہ دکھا دیا جاتا ہے، لہذا یہ تصویر عکس سے زیادہ قریب ہے، تصویر کے مقابلہ میں ۔ (تقریر ترمذی، جلدِ دوم، ص ۳۵۱) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.