اسکائپ کال کے ذریعہ عقدِ نکاح کا حکم:

3 min readFatwa Vol 9 #322Urdu
Vol. 9باب… )۸( نکاح و طلاق سے متعلق متفرق مسائل

Question

اگر کوئی شخص اسکائپ کال (جس میں ایک دوسرے کا چہرہ دیکھتے ہوے بات چیت کرتے ہیں) کے ذریعہ نکاح کرے جس میں دو گواہ عاقدین کی بات چیت سنتے ہیں اور چہرہ بھی دیکھتے ہیں، تو ایسی صورت میں نکاح منعقد ہو جائے گا یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔

Answer

نکاح منعقد ہونے کے لیے ضروری ہے کہ عاقدین دو گواہوں کے سامنے ایک ہی مجلس میں ایجاب و قبول کر لیں، اور دو گواہ سن لیں اگر مجلس بدل گئی تو نکاح منعقد نہیں ہوگا، اور اسکائپ کال میں یہ بات نہیں ہوتی، لہٰذا اسکائپ کال کے ذریعہ نکاح منعقد نہیں ہوگا، ہاں لڑکی لڑکے کے مقام پر کسی کو اپنی طرف سے وکیل بنا دے پھر وکیل مجلس نکاح میں دو گواہوں کے سامنے نکاح کر دے تو نکاح ہو جائے گا ۔
ملاحظہ ہو بدائع الصنائع میں ہے:

فأما إذا كان أحدهما غائباً لم ينعقد حتى لو قالت امرأة بحضرة شاهدين زوجت نفسي من فلان وهو غائب فبلغه الخبر فقال: قبلت، أو قال رجل بحضرة شاهدين تزوجت فلانة وهي غائبة فبلغها الخبر فقالت: زوجت نفسي منه لم يجز وإن كان القبول بحضرة شاهدين ذينك الشاهدين وهذا قول أبي حنيفة رحمه الله ومحمد رحمه الله. (بدائع الصنائع: ۲/۲۳۲، سعيد).

کتاب الفتاوی میں مرقوم ہے: سوال: انٹرنیٹ، ویپ سائٹ، فیکس، ای میل، ٹیلیفون کانفرس اور ٹیلی گرام پر نکاح کرنا درست ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔
جواب: نکاح میں ضروری ہے کہ ایجاب و قبول ایک ہی مجلس میں ہو، سوال میں جن صورتوں کا ذکر ہے، اس میں ظاہر ہے کہ بات کرنے یا تحریری طور پر اپنی بات کو پیش کرنے والے کی مجلس الگ ہوتی ہے اور مخاطب کی مجلس الگ، اس لیے ان ذرائع ابلاغ کے ذریعہ نکاح کا ایجاب و قبول درست نہیں، البتہ کسی شخص کو ایجاب و قبول کا وکیل بنایا جا سکتا ہے اور وہ اپنے موکل کا نکاح کر سکتا ہے ۔ (کتاب الفتاوی: ٤/۳۰٦، ط: زمزم) ۔
اہم مسائل جن میں ابتلا عام ہے، میں مذکور ہے:
مسئلہ: ایمو (Imo) یا اسکائپ (Skype) پر لائف ویڈیو کال (Live Video Call) کے ذریعہ لڑکا لڑکی ایجاب و قبول کریں، اور لڑکا لڑکی کی آواز دو گواہ بھی سن لیں، تو بھی نکاح صحیح نہیں ہوگا، کیوں کہ شرعاً نکاح کے صحیح ہونے کے لیے ایجاب و قبول کی مجلس ایک ہونے کے ساتھ ساتھ دو گواہوں کا اس مجلس میں موجود ہونا ضروری ہے، جو ایجاب و قبول کے الفاظ اپنے کانوں سے سنیں، ہاں ! اگر باہر رہنے والا لڑکا یا لڑکی کسی کو اپنا وکیل بنا دے، پھر مجلس نکاح میں ایجاب کرنے والے کے ایجاب کو دوسرے کا وکیل قبول کر لے، اور اس مجلس میں دو مسلمان گواہ بھی موجود ہوں، جو ایجاب و قبول کو سن لیں، تو نکاح صحیح ہو جائے گا ۔ (اہم مسائل جن میں ابتلا عام ہے: ۹/۲۰۳، ط: اکل کوا) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.