ایجاب وقبو ل کی مجلس مختلف ہونے پر نکاح کا حکم:
Question
ایک شخص نے ایک لڑکی سے نکاح درجہ ذیل طریقہ پر کیا دو مسلمان گواہوں نے شوہر کے ایجاب کو الگ مجلس میں سنا پھر یہ گواہ لڑکی کے پاس آئے اور اس کا قبول دوسری مجلس میں سنا تو کیا نکاح منعقد ہوا یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔
Answer
فقہاء نے اس بات کی تصریح فرمائی ہے کہ مجلس نکاح کا متحد ہونا ضروری ہے اگر ایجاب و قبول کی مجلس مختلف ہو گئی تو نکاح منعقد نہ ہوگا، چنانچہ صورتِ مسئولہ میں ایجاب و قبول کی مجلس کے مختلف ہونے کی وجہ سے نکاح منعقد نہیں ہوا ۔ ملاحظہ ہو بدائع الصنائع میں مرقوم ہے:
وأما الذي يرجع إلى مكان العقد فهو اتحاد المجلس إذا كان العاقدان حاضرين وهو أن يكون الإيجاب والقبول في مجلس واحد حتى لو اختلف المجلس لا ينعقد النكاح
هذا إذا كان العاقدان حاضرين فأما إذا كان أحدهما غائباً لم ينعقد حتى لو قالت امرأة بحضرة شاهدين: زوجت نفسي من فلان وهو غائب فبلغه الخبر فقال: قبلت أو قال رجل بحضرة شاهدين تزوجت فلانة وهي غائبة فبلغها الخبر فقالت: زوجت نفسي منه لم يجز وإن كان القبول بحضرة ذينك الشاهدين، وهذا قول أبي حنيفة رحمه الله ومحمد رحمه الله. (بدائع الصنائع: ۲/۲۳۲، سعيد). وللمزيد ينظر: (الدر المختار: ۳/۱٤، سعيد، والفتاوى الهندية: ۱/۱٦۹).
مجموعہ قوانین اسلامی میں ہے:
ایجاب و قبول سے متعلق شرائط ؛ مجلس کا متحد ہونا یہ ضروری ہے کہ ایجاب و قبول ایک مجلس میں ہو اگر ایجاب کے بعد اور قبول سے پہلے مجلس بدل جائے تو ایجاب بے کار ہو جائے گا اور قبولیت معتبر نہ ہو گی ۔ (مجموعہ قوانین اسلامی، ص ٤۰) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.